یکساں ٹیرف کا نفاذ، بجلی کے بلوں پر کیا اثر پڑے گا؟

بدھ 27 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے حال ہی میں پورے ملک میں بجلی کے لیے یکساں ماہانہ ٹیرف پالیسی لاگو کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت اب نہ صرف بجلی کی بنیادی قیمت، بلکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بھی پورے ملک میں یکساں بنیاد پر لاگو کی جائے گی۔

فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی یا اضافہ دونوں صورتوں میں ملک بھر کے لیے ایک جیسا ہوگا، بجلی کا بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کراچی سمیت ملک بھر کے لیے یکساں لاگو ہوتی ہے۔

نئے فیصلے کے تحت ماہانہ ایڈجسٹمنٹ بھی سہ ماہی اور بنیادی ٹیرف کی طرح ملک بھر کے لیے یکساں ہو جائےگی۔ اس فیصلے کے بعد عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس کا بجلی کے بلوں پر کیا اثر پڑے گا؟

مزید پڑھیں: قلات: بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال

انرجی اکانومسٹ ڈاکٹر خالد ولید کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کابینہ نے یکساں ٹیرف پالیسی کے نفاذ کی منظوری دی ہے۔ اس سے پہلے بھی ملک بھر میں ایک ہی ٹیرف لاگو تھا، تاہم نیشنل ٹیرف کا ایک جزو ایسا تھا جو کے الیکٹرک اور نیشنل گرڈ کے لیے مختلف رکھا گیا تھا، اور وہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مالی سال کے آغاز میں ہی ریفرنس ٹیرف طے کیا جاتا ہے، جس میں بجلی پیدا کرنے کے لیے فیول کی متوقع قیمت، خاص طور پر درآمدی ایندھن کی لاگت، شامل کی جاتی ہے۔ بعد میں جب کسی مہینے کا اصل فیول بل سامنے آتا ہے تو اس کا موازنہ ریفرنس ٹیرف سے کیا جاتا ہے۔

اگر اصل لاگت زیادہ ہو تو بجلی کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے اور اگر کم ہو تو قیمت میں کمی کی جاتی ہے۔ نیشنل گرڈ اور کے الیکٹرک کے لیے یہ حساب کتاب بالکل الگ طریقے سے کیا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں: صارفین کو ستمبر کے بجلی بلوں میں کتنا ریلیف ملے گا؟

کے الیکٹرک چونکہ اپنی بجلی بھی پیدا کرتا ہے، اس لیے وہ اپنا الگ ریفرنس ٹیرف رکھتے تھے۔ تاہم نیشنل الیکٹریسٹی پلان میں واضح طور پر درج ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی ٹیرف ہوگا۔ اسی اصول کے تحت کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جس طرح بجلی کے باقی اجزا نیشنل یونیفارم ٹیرف کے تحت آتے ہیں، اسی طرح کے الیکٹرک کو بھی یکساں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اپنانا ہوگا تاکہ ملک بھر میں ایک ہی ٹیرف برقرار رکھا جا سکے۔

ڈاکٹر خالد ولید نے مزید کہا کہ یہاں 2 پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ نیشنل ٹیرف سیٹنگ میکنزم کو مکمل طور پر ازسرِ نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اگر بجلی کی مسابقتی مارکیٹ قائم کرنی ہے۔ اس کے لیے زیادہ کمپنیوں کو مارکیٹ میں آنا ہوگا تاکہ وہ آپس میں مقابلہ کر کے صارفین کو کم نرخ اور بہتر سروس فراہم کر سکیں۔

ان کے مطابق یہ قدم مثبت ہے کیونکہ اس سے یکساں ٹیرف برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اگر ملک میں مسابقتی الیکٹریسٹی مارکیٹ قائم کی جاتی ہے تو اس سے کمپنیاں صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نرخ کم کرنے اور سروس کے معیار کو بہتر بنانے پر مجبور ہوں گی۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ نے بجلی کے بڑھتے نرخوں کا الزام ہوا اور شمسی توانائی پر دھر دیا

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہرِ معیشت راجا کامران نے بتایا کہ بجلی کا ٹیرف مختلف اقسام کے چارجز پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں سب سے اہم کپیسیٹی چارجز (جو ہر 3 ماہ بعد تبدیل ہوتے ہیں) اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (جو ہر ماہ ایندھن کی قیمت کی بنیاد پر طے ہوتی ہے) شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ فکسڈ چارجز بھی ہوتے ہیں جو مختلف اداروں کو دیے جاتے ہیں۔ یہ تمام اجزا مل کر مجموعی ٹیرف بناتے ہیں۔

پاکستان میں ماضی میں 2 الگ سسٹمز رائج تھے، جن میں ایک کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے، اور دوسرا باقی ملک کی 10 سرکاری ڈسکوز کے لیے، جن کا ٹیرف سی سی پی اے جی کے تحت مقرر ہوتا تھا۔ دونوں نظاموں میں کپیسیٹی اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی الگ الگ کیلکولیشنز ہوتی تھیں۔

راجا کامران کے مطابق اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام چارجز کو یکساں کردیا جائے، تاکہ کراچی سمیت پورے ملک میں ایک ہی ٹیرف سسٹم لاگو ہو۔ اس فیصلے سے کراچی کے صارفین کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نمایاں فرق (اضافہ) آ سکتا ہے، کیونکہ اب ان پر بھی وہی چارجز لاگو ہوں گے جو ملک کے دیگر صارفین پر پہلے سے لاگو تھے۔ اس کا مقصد ٹیرف سسٹم کو شفاف، یکساں اور منصفانہ بنانا ہے۔

مزید پڑھیں:

دوسری جانب ماہرِ معیشت شہباز رانا اس فیصلے کو کوئی نئی پیشرفت نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بجلی کا یکساں ٹیرف نظام پہلے سے ہی نافذ تھا، جس کے تحت پشاور جیسے علاقوں، جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے، وہاں کے صارفین بھی وہی نرخ ادا کرتے ہیں جو لاہور یا فیصل آباد جیسے کم نقصانی علاقوں میں دیے جاتے ہیں۔

شہباز رانا کے مطابق، اصل فرق صرف کراچی میں تھا، جہاں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ علیحدہ طریقے سے کی جاتی تھی۔ ملک کے باقی تمام شہروں میں یہ چارج پہلے ہی یکساں تھا۔ اب حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے وہ صرف کراچی کے لیے ہے، جہاں کے صارفین پر اب وہی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ لاگو ہوگا جو پہلے سے باقی ملک میں رائج تھا۔ لہٰذا، ان کے مطابق یہ کوئی انقلابی یا نیا فیصلہ نہیں بلکہ محض کراچی کے نظام کو قومی فریم ورک میں شامل کرنے کا عمل ہے۔

اس حکومتی فیصلے سے جہاں کراچی کے صارفین پر ممکنہ طور پر بجلی کے نرخوں میں فرق آ سکتا ہے، وہیں باقی ملک کے لیے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ وہاں یہ نظام پہلے سے لاگو تھا۔ ایک طرف راجا کامران اس تبدیلی کو ملک گیر اصلاحات کے طور پر دیکھتے ہیں، تو دوسری طرف شہباز رانا کے نزدیک یہ صرف کراچی کی حد تک محدود ایک تکنیکی ایڈجسٹمنٹ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان