وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

جمعرات 28 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعرات کو پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا فضائی اور زمینی دورہ کیا۔

اس موقع پر انہیں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:راوی، چناب اور ستلج میں تباہ کن سیلاب، 22 افراد جاں بحق، لاکھوں متاثر، کئی بستیاں غرقاب

روانگی سے قبل چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیراعظم کو ملک بھر کی سیلابی صورتحال اور جاری ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

فضائی معائنے کے دوران وزیراعظم کو خاص طور پر نارووال اور گوجرانوالہ ڈویژن میں شدید متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مزید جانی و مالی نقصان روکنے اور ریلیف آپریشن تیز کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔

پنجاب میں جانی نقصان اور تباہ کاریاں

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گوجرانوالہ ڈویژن میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں سیالکوٹ کے 5، گجرات کے 4، نارووال کے 3، حافظ آباد کے 2 اور گوجرانوالہ کے 1 شہری شامل ہیں۔ مزید 3 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

حکام کے مطابق: پنجاب بھر میں 6 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد اور 35 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جب کہ

769 دیہات زیرِ آب آ گئے جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (UNOCHA) کے مطابق اس سال مون سون سے ہونے والی اموات گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہیں۔

کرتارپور گردوارہ بھی زیرِ آب

نارووال میں سیلابی ریلوں نے تاریخی گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کے احاطے کو بھی ڈبو دیا۔

تاہم ایمرجنسی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے وہاں پھنسے 150 سے زائد سکھ یاتریوں اور عملے کو بحفاظت نکال لیا۔ اس آپریشن کی نگرانی وفاقی وزیر احسن اقبال اور صوبائی وزیر رامیش سنگھ اروڑہ نے کی۔

نارووال-شکرگڑھ روڈ کئی کلومیٹر تک کٹ جانے سے قریبی دیہات کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔

مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی

سیلابی پانی شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ اور ساہیوال کے متعدد علاقوں میں پھیل گیا ہے۔

ننکانہ صاحب کے دیہات ہیر، نواں کوٹ اور خضرا آباد زیر آب ہیں، اوکاڑہ کے قصبے جندران کلاں (آبادی 30 ہزار سے زائد) کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ فیصل آباد میں 100 سے زائد بستیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

پنجاب حکومت نے متاثرہ اضلاع میں 263 ریلیف کیمپ اور 161 میڈیکل کیمپ قائم کر دیے ہیں۔

بے گھر خاندانوں کو خوراک، ادویات اور عارضی پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ایمرجنسی ٹیمیں مسلسل الرٹ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کا ایران سے ڈیل کے لیے خفیہ رابطہ، پاسداران انقلاب کو براہِ راست پیغام پہنچایا گیا، فوکس نیوز کا دعویٰ

معروف دوا صرف ایک بیماری تک محدود نہیں، تحقیق میں حیران کن طبی فائدہ سامنے آگیا

نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، ہم مطالبہ نہیں بلکہ تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے

آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں پر پولنگ 24 اگست کو، امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

اسلام ماخا چیف کی ’یو ایف سی‘ فائٹ میں مسلسل 17 ویں فتح، نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کردیا

ایران کا ہرمز کھولنے سے قبل امریکا سے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

کالم / تجزیہ

انکار کا اعزاز

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں