اسرائیلی وزیر کا غزہ کے الحاق کا مطالبہ، حماس کا سخت ردعمل

جمعہ 29 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حماس اپنے ہتھیار نہیں ڈالتی تو اسرائیل کو غزہ کا مرحلہ وار الحاق کر لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ میں قحط: امداد کو ہتھیار بنانے کی اسرائیلی حکمتِ عملی

الجزیرہ نیوز کے مطابق سموٹریچ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر حماس نے سرنڈر نہ کیا، ہتھیار نہ ڈالے اور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو اسرائیل کو ہر ہفتے غزہ کے ایک حصے پر قبضہ کرنا چاہیے اور یہ عمل 4 ہفتوں تک جاری رکھنا چاہیے۔

ان کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے سال کے اختتام تک غزہ میں فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے فلسطینیوں کو غزہ کے جنوبی حصے کی طرف دھکیلا جائے گا، پھر شمال اور وسطی علاقوں کا محاصرہ کر کے ان کا الحاق کر لیا جائے گا۔

اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر مذمت

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج غزہ سٹی میں مزید اندر تک پیش قدمی کر رہی ہے اور ایک ملین سے زائد فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی مہم ’بڑے پیمانے پر موت اور تباہی‘ کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  قحط اب محض خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ تباہی ہے۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں، اور زندگی کو سہارا دینے والے نظام تباہ کر دیے گئے ہیں۔

حماس کا ردعمل

حماس نے سموٹریچ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے صفایا کرنے کی ’سرکاری اپیل‘ قرار دیا۔

گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ بیان اسرائیلی پالیسی کا کھلا اعتراف ہے جو گذشتہ 23 ماہ سے جاری محاصرے اور بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ : حماس کا بڑا حملہ، اسرائیلی فوج کا پلاٹون کمانڈر لیفٹیننٹ اوری گرلیک ہلاک، متعدد زخمی

حماس نے مزید کہا کہ یہ کوئی انفرادی انتہا پسند رائے نہیں بلکہ صہیونی حکومت کی پالیسی ہے جو نسل کشی اور جبری بے دخلی پر مبنی ہے۔

نیتن یاہو کی خاموشی

سموٹریچ نے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ اس منصوبے کو فوری طور پر مکمل طور پر نافذ کریں۔ تاہم نیتن یاہو نے اس پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، البتہ ماضی میں وہ اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ اسرائیل ’پورے غزہ پر کنٹرول‘ حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

واضح رہے کہ سموٹریچ اسرائیلی آبادکار تحریک کے بڑے حامی ہیں اور خود بھی مغربی کنارے میں قائم ایک غیر قانونی یہودی بستی میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ غزہ میں ان یہودی بستیوں کی دوبارہ تعمیر کے حامی ہیں جو 2005 میں ختم کر دی گئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن