ریستورانوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے آرڈرز لینا اکثر مضحکہ خیز بن جاتا ہے، جانیے کیسے؟

جمعہ 29 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ریستورانوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے آرڈرز لینا اکثر مضحکہ خیز بن جاتا ہے۔ حال ہی میں یہ صورتحال امریکا میں مشہور فاسٹ فوڈ چین ٹاکو بیل کے ساتھ بھی پیش آئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر مذاق بن جانے پر اس نے اپنی ڈرائیو تھرو سروسز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)  کے استعمال پر نظرثانی شروع کر دی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں ریستوران چین کے اے آئی نظام نے عجیب و غریب غلطیاں کیں۔

یہ بھی پڑھیں: بے قابو اے آئی ماڈل بلیک میل بھی کرنے لگے، کنٹرول کیسے ممکن ہے؟

ٹاکو بیل کے جس اے آئی نظام کا ذکر ہو رہا ہے وہ دراصل ایک ’وائس اسسٹنٹ‘ ہے جو امریکا میں سینکڑوں ڈرائیو تھرو ریستورانوں پر نصب کیا گیا ہے۔ جب گاہک اپنی گاڑی میں بیٹھے مائیک پر آرڈر دیتے ہیں تو انسانی ملازم کے بجائے ایک خودکار اے آئی سسٹم ان کی آواز کو پہچان کر آرڈر درج کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد آرڈر لینے کے عمل کو تیز، مؤثر اور انسانی غلطیوں سے پاک بنانا تھا۔

تاہم حالیہ تجربات سے پتا چلا ہے کہ یہ اے آئی سسٹم ہر وقت درست کام نہیں کرتا۔ بعض اوقات یہ گاہک کی بات کو غلط سمجھ لیتا ہے یا بار بار ایک ہی سوال دہرا کر پریشان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس نظام کی مزاحیہ اور ناقص کارکردگی کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں جس کے بعد ٹاکو بیل اپنی حکمتِ عملی پر نظر ثانی کر رہا ہے۔

ایک ویڈیو میں ایک صارف نے مذاق میں 18 ہزار پانی کے گلاس مانگے جس سے سسٹم کریش کر گیا۔ ایک اور ویڈیو میں ایک ناراض گاہک کو بار بار اے آئی یہ کہتا رہا کہ اس مشروب کے ساتھ آپ کیا پینا چاہیں گے؟

ٹاکو بیل نے سنہ 2023 سے اب تک 500 سے زائد ریستورانوں میں یہ ٹیکنالوجی متعارف کروائی تھی جس کا مقصد غلطیوں کو کم کرنا اور آرڈرز کو تیز بنانا تھا مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔

مزید پڑھیے: اے آئی چشمے نابینا افراد کی آنکھیں بن گئے، جانیے استفادہ کرنے والے کیا کہتے ہیں؟

کمپنی کے چیف ڈیجیٹل اینڈ ٹیکنالوجی آفیسر ڈین میتھیوز نے وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کبھی یہ مجھے مایوس کرتا ہے اور کبھی حیران۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت کچھ سیکھ رہے ہیں لیکن اب ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ اے آئی کو کہاں استعمال کیا جائے۔

میتھیوز نے تسلیم کیا کہ مصروف اوقات میں انسان ہی بہتر آرڈر لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی اپنی ٹیم کو تربیت دے رہی ہے کہ کب  اے آئی کو استعمال کرنا ہے اور کب خود مداخلت کرنی ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین کی شکایات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک انسٹاگرام ویڈیو جسے اب تک 2 کروڑ 15 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے میں اے آئی ایک سادہ آرڈر کو بار بار غلط سمجھتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب اے آئی نے کھانے پینے کے آرڈرز میں ایسی بڑی غلطیاں کی ہوں۔

گزشتہ سال میکڈونلڈز کو بھی اپنے ڈرائیو تھرو سےاس وقت اے آئی ہٹانا پڑا جب اے آئی نے ایک آرڈر میں آئس کریم میں غلطی سے ’بیکن‘ شامل کر دیا جو کہ عموماً سور کے گوشت سے تیار کیا جاتا ہے۔ ایک آرڈر میں غلطی سے سینکڑوں ڈالر کے چکن نگٹس ڈال دیے گئے۔

مزید پڑھیں: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین

اگرچہ اے آئی صرف گاہک کی آواز سن کر آرڈر درج کرتا ہے مگر کھانا آخرکار انسان ہی تیار کرتے ہیں۔ اس لیے سوال اٹھتا ہے کہ آئس کریم جیسے میٹھے آئٹم میں گوشت والا آئٹیم شامل کرنا انسانی عملے کی جانب سے بھی ایک غفلت تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں تیزی اور دباؤ کے ماحول میں عملہ ہر آرڈر کی باریکی سے جانچ نہیں کرتا اور بعض اوقات وہ غیر معمولی آرڈرز کو بھی درست مان کر بنا دیتے ہیں۔ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف  اے آئی پر انحصار کرنا اور انسانی جانچ کے بغیر کھانے تیار کرنا خطرناک نتائج دے سکتا ہے۔

اگرچہ کچھ کلپس میں اے آئی کی ناکامی کا مذاق اڑایا جا رہا ہے لیکن ٹاکو بیل کا دعویٰ ہے کہ اب تک 20 لاکھ آرڈر کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp