وزیراعظم شہباز شریف کی چین کے دارلحکومت بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر خزانہ کی بیجنگ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، پاک چین مالی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق
وفود کی سطح پر ہونے والی اس ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی صدر نے دنیا بھر میں 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، بیلٹ اینڈ روٹ اینیشی ایٹیو اس کی واضح مثال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام چین کی دوستی کو دل کے قریب سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم نے چینی صدر کا ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اگلے سال پاک-چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
اس موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت کرتے ہیں، اقتصادی ترقی کے تمام شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر پاکستان کے اہم ترین اقتصادی شعبوں پر توجہ دی جارہی ہے، امید ہے پاکستان چینی عملے اور پراجیکٹس کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: جعفر ایکسپریس سمیت کئی واقعات میں بیرونی ہاتھ ہونے کے شواہد ہیں، شہباز شریف کا ایس سی او اجلاس سے خطاب
اس سے قبل گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے تیانجن، چین میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس سے خطاب کیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایس سی او کے لیے تیانجن میں موجود ہونا میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ میں چینی صدر شی جن پنگ کا ان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے ازبکستان اور کرغزستان کو ان کے قومی دن پر مبارکباد بھی پیش کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج چین کی عالمی قیادت کو نہ صرف ایس سی او بلکہ دیگر پلیٹ فارمز میں بھی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور سی پیک اس کی نمایاں مثال اور فلیگ شپ پراجیکٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھا ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند مہینوں میں خطے نے عدم استحکام دیکھا۔ پاکستان تمام ایس سی او ممبران اور ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور تمام ممبران سے یہی توقع رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات
وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او ممبران کے درمیان پانی کے حق تک رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالنا اس پلیٹ فارم کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے دہشتگردی کی ہر شکل کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنہوں نے دہشتگردی کو اپنے سیاسی عزائم کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے، انہیں جاننا چاہیے کہ دنیا اب اس افسانوی بیانیے کو قبول نہیں کرتی۔ ہمارے پاس جعفر ایکسپریس ٹرین واقعہ سمیت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ ہونے کے شواہد موجود ہیں۔














