بھارت دنیا کے سامنے خود کو ’ذمہ دار عالمی طاقت‘ کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی پالیسیوں کا اصل مقصد سرمایہ دار دوستوں کو نوازنا اور منافع خوری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روسی تیل اور بھارتی ریفائننگ، پیسے کس نے کھرے کیے؟
روس پر عائد عالمی پابندیوں کے باوجود مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز بھارتی حکومت کی آشیر باد سے سب سے بڑی فائدہ مند کمپنی بن کر سامنے آئی ہے۔
روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار
وزیراعظم مودی کے قریبی دوست مکیش امبانی روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار اور بیوپاری ثابت ہوئے ہیں۔

ریلائنس انڈسٹریز نے اربوں ڈالر کے سودے کر کے امریکی پابندیوں کو نظر انداز کیا، جس پر عالمی سطح پر بھارت کو سخت تنقید اور واشنگٹن کی ناراضی کا سامنا ہے۔
پرائیویٹ اداروں کا اجارہ
جہازوں کی ٹریکنگ رپورٹوں کے مطابق بھارت کی یومیہ 1.5 ملین بیرل روسی تیل درآمدات کا بڑا حصہ صرف 2 پرائیویٹ اداروں، ریلائنس انڈسٹریز (مکیش امبانی) اور نایارا انرجی (روسنیفٹ کے زیرِ انتظام)، کے قبضے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی بھارت کو پھر تنبیہ، روسی تیل کی درآمدات پر ’سنجیدگی‘ دکھانے کا مطالبہ
یہ سودے عوامی ضرورت یا ریلیف کے بجائے ارب پتی طبقے کی تجوریاں بھرنے کے لیے کیے گئے۔
خطرناک انحصار اور برآمدات
جون 2025 میں بھارت میں استعمال ہونے والے ہر دوسرے بیرل کا ماخذ روس تھا، یعنی روسی تیل کا حصہ 45 فیصد تک پہنچ گیا۔
ریلائنس اور نایارا نے مل کر بھارت کی 81 فیصد ایندھن برآمدات اپنے کنٹرول میں لے لی ہیں۔

صرف ریلائنس نے یومیہ 9 لاکھ 14 ہزار بیرل برآمد کر کے بھارت کی کل برآمدات کا 71 فیصد سنبھال رکھا ہے، جبکہ جام نگر ریفائنری اپنی پیداوار کا 67 فیصد بیرون ملک بھیجتی ہے تاکہ یورپ و ایشیا میں مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے۔
عوام کو ریلیف نہیں، سرمایہ داروں کو منافع
جب مغرب نے روس پر پابندیاں لگائیں تو بھارتی پرائیویٹ ریفائنرز نے موقع سے فائدہ اٹھا کر اربوں ڈالر کمائے۔ سستا روسی خام تیل خرید کر یورپ اور ایشیا میں مہنگا ایندھن بیچا گیا، لیکن بھارتی عوام کو کوئی فائدہ نہ ملا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ٹیرف کے باوجود انڈیا روس سے تیل کی خریداری میں اضافہ کرے گا، رپورٹ
اس سے صرف امبانی کی دولت میں اضافہ ہوا جبکہ عوام غربت اور مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے۔
حکومتی آشیر باد
یہ سب کچھ بھارتی حکومت کی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں۔ مودی حکومت نے عوامی ریفائنریز کو نظر انداز کر کے امبانی اور نایارا کو کھربوں کمانے کا موقع دیا۔
امب
نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت بدنام ہوا اور روس پر اس کا انحصار خطرناک حد تک بڑھ گیا۔
غیرجانبداری کا دعویٰ بے نقاب
بھارت کا یوکرین جنگ پر ’غیر جانبداری‘ کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ نئی دہلی نے پابندیوں کے خلا کو دانستہ استعمال کر کے چند سرمایہ دار دوستوں کو نوازا۔
ریلائنس انڈسٹریز وزیراعظم مودی کی پشت پناہی میں بھارت کے دوہرے کھیل اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی سب سے بڑی مثال ہے۔













