ٹويوٹا نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ چیک ریپبلک میں واقع اپنی فیکٹری میں اپنی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی تیار کرے گا۔
یہ کمپنی کی یورپ میں بننے والی پہلی مکمل الیکٹرک وہیکل ہوگی، اسی پلانٹ میں ایک نئی بیٹری اسمبلی فیسلٹی کے لیے بھی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
ٹويوٹا نے ماڈل یا پروڈکشن کے وقت کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن بتایا کہ کولن پلانٹ کی توسیع پر تقریباً 680 ملین یورو خرچ ہوں گے، چیک حکومت بھی بیٹری فیسلٹی کے لیے 64 ملین یورو کی سرمایہ کاری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹویوٹا کا پاکستان میں تیار کی گئی گاڑیاں یورپی ممالک کو برآمد کرنے کا اعلان
چیک وزیراعظم پیٹر فیالا نے کہا کہ آٹو انڈسٹری خام ملکی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد ہے اور ٹويوٹا کا یہ فیصلہ ہمارے ملک میں کار مینوفیکچرنگ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
دنیا کا سب سے زیادہ فروخت کرنے والا آٹو مینوفیکچرر ٹويوٹا اب تک الیکٹرک وہیکل کے معاملے میں احتیاط سے آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ دیگر حریف تیزی سے برقی گاڑیاں متعارف کرا رہے ہیں۔
اس حکمتِ عملی نے اسے اس وقت فائدہ دیا ہے جب دنیا بھر میں الیکٹرک وہیکل کی مانگ سست روی کا شکار ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا کیا فیوچر ہے؟
امریکا سمیت مختلف مارکیٹوں میں ٹويوٹا کی ہائبرڈ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب نے بھی کمپنی کی پوزیشن کو مضبوط بنایا ہے۔
اس سال کے شروع میں ٹويوٹا نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2025 اور 2026 کے دوران یورپ میں ٹويوٹا اور لیکسس برانڈز کے لیے 9 مکمل الیکٹرک ماڈلز لانچ کرے گا۔
کولن پلانٹ اس وقت ایگوایکس اوریارس ہائبرڈ تیار کرتا ہے اوراس کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 2,20,000 گاڑیاں ہے۔














