پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا کیا فیوچر ہے؟

جمعرات 10 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی معروف کمپنی BYD کی جانب سے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا پلانٹ لگانے کی خبروں نے ملک کی آٹو انڈسٹری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں اہم سنگ میل، مقامی طور پر اسمبل الیکٹرک کاریں لانچ

اگرچہ یہ قدم بظاہر پاکستان کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی تب ہی ممکن ہوگی جب یہ سرمایہ کاری مکمل مینوفیکچرنگ، جامع لوکلائزیشن، اور عام آدمی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے۔ بصورت دیگر یہ بھی ماضی کی طرح ایک ایسا ماڈل بن سکتا ہے جہاں ٹیکنالوجی کا فائدہ نہ عوام کو ہوتا ہے، نہ ہی ملکی معیشت کو۔

پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا کیا فیوچر ہے؟ پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے یہ قدم کتنا فائدہ مند ہوگا؟ اور کیا پاکستان الیکٹرک موبیلیٹی کے لیے تیار ہے؟

پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں کوئی بڑی الیکٹرک وہیکل کمپنی سرمایہ کاری کرتی ہے تو اس سے ملک کی آٹو انڈسٹری کو بلاشبہ فائدہ ہوگا۔ تاہم اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مقامی سطح پر کتنی لوکلائزیشن کی جائے گی، اور وقت کے ساتھ اس میں کس حد تک اضافہ ممکن ہوگا۔

اگر یہ کمپنیاں صرف پرزے درآمد کر کے یہاں گاڑیاں اسمبل کریں، جیسا کہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے معاملے میں ہوتا رہا ہے، تو اس کا کوئی پائیدار فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا، جہاں ٹویوٹا، ہنڈا اور سوزوکی جیسی کمپنیوں نے صارفین کو محدود سہولیات اور زیادہ قیمتوں کے ساتھ مایوس کیا۔ اگر یہی ماڈل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے اپنایا گیا، یعنی صرف CBU، CKD یا SKD یونٹس کو درآمد کر کے مقامی طور پر جوڑا گیا، تو ملک کو نہ تو ٹیکنالوجی منتقل ہوگی اور نہ ہی روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا اہم فیصلہ، کیا الیکٹرک بائیکس سستے ہوجائیں گے؟

ایچ ایم شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ اصل فائدہ تب ہی ممکن ہے جب کمپنیاں مکمل مینوفیکچرنگ اور جامع لوکلائزیشن کی طرف آئیں، تاکہ ’میڈ ان پاکستان‘ الیکٹرک وہیکلز تیار ہوں۔ اس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ ملک کی پیٹرول اور ڈیزل پر عالمی انحصار بھی کم ہوگا، جو موجودہ وقت میں درآمدی بل کا بڑا حصہ ہے۔

آٹو ایکسپرٹ شوکت قریشی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت اُس وقت ہی کامیاب ہو سکتی ہے جب کمپنیاں چھوٹی، کم قیمت اور عام آدمی کی پہنچ میں آنے والی گاڑیاں متعارف کروائیں، ساتھ ہی بیٹری چارجنگ کی سہولیات کو آسان، سستی اور ہر جگہ دستیاب بنایا جائے۔

دوسری جانب حکومت کو بھی فوری طور پر اپنی ای وی (الیکٹرک وہیکل) پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ پاکستان میں ای وی شعبے کی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ اور سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں ای وی کی ترقی کے مخالف رہی ہیں۔ ان پالیسیوں کے پیچھے ایندھن سے منسلک کاروباری مفادات اور اثر و رسوخ رکھنے والے طاقتور گروپس کا دباؤ شامل ہے، جو الیکٹرک ٹیکنالوجی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

آٹو انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایکسپرٹ فاروق پٹیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں کچھ مقامی کمپنیوں نے بھی الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کا آغاز کیا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں کئی ادارے اب ’میڈ اِن پاکستان‘ الیکٹرک رکشہ اور بائیکس تیار کر رہے ہیں، جو مکمل طور پر مقامی پرزوں سے بن رہے ہیں۔

یہ رکشے اور بائیکس کم قیمت، ماحول دوست اور شہری ٹرانسپورٹ کے لیے ایک عملی حل ثابت ہو رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں ای وی کی مقامی تیاری ممکن اور مؤثر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

سابق کپتان بابر اعظم کا ایک اور اعزاز، اہم سنگ میل عبور کرلیا

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں