افغانستان میں زلزلہ متاثرین کھلے آسمان تلے بے سروسامانی میں رات گزارنے پر مجبور

بدھ 3 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقی افغانستان میں ہولناک زلزلے کے بعد ہزاروں خاندان بے گھر اور خوفزدہ کھلے آسمان تلے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔ لوگ تباہ حال یا جزوی طور پر متاثرہ گھروں میں واپس جانے سے ڈر رہے ہیں کیونکہ مسلسل جھٹکوں نے عمارتوں کے گرنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔

اتوار کو آنے والے 6.0 شدت کے زلزلے نے سرحدی پہاڑی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ہلاکتوں کی تعداد 1,400 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ سینکڑوں جھٹکوں اور 6 آفٹر شاکس نے مزید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ بعض دیہات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں جہاں اب بھی لوگ دبے ہوئے ہیں۔

امدادی رسائی میں مشکلات

صوبہ کنڑ کے دور دراز علاقے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تاحال کٹے ہوئے ہیں جس سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیش آرہی ہے۔ اقوام متحدہ نے 14 ہزار خیمے تقسیم کے لیے تیار رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے پاس بھی سیکڑوں خیمے موجود ہیں، مگر دشوار گزار راستوں کی وجہ سے متاثرین تک پہنچانا ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: افغان زلزلہ متاثرین کو بغیر ویزا پاکستان منتقل کرکے علاج کی سہولت دی جائے: کے پی اسمبلی کی قرارداد

متاثرین کی دہائی

زلزلے سے زخمی ہونے والی ایک خاتون سورت نے کہا کہ ہماری کوئی جگہ نہیں بچی، میرے بچوں کو پناہ دیں، ہمیں مدد دیں۔ وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ملبے سے زندہ نکالی گئیں لیکن گاؤں واپس پہنچنے پر انہیں صرف ویرانی ملی۔

ننگرہار صوبے کے دارالحکومت جلال آباد میں بھی خوف کی فضا برقرار ہے۔ 42 سالہ ڈاکٹر فرشتہ کا کہنا تھا کہ ہر وقت لگتا ہے زمین ہل رہی ہے، ہم گھر کے بجائے باغ میں سوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کنڑ سمیت مشرقی افغانستان میں ہولناک زلزلہ، ہلاکتیں 500 سے تجاوز کرگئیں

انسانی بحران میں اضافہ

عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے مطابق یہ زلزلہ ایسے وقت آیا ہے جب لاکھوں افغان پہلے ہی غذائی قلت اور بچوں کی شدید کمزوری سے دوچار ہیں۔ ادارے نے اسے “انتہائی سفاک صورتحال” قرار دیا ہے۔

افغانستان حالیہ برسوں میں کئی مہلک زلزلے جھیل چکا ہے۔ 2023 میں مغربی ہرات میں 6.3 شدت کے زلزلے اور آفٹر شاکس نے پورے دیہات تباہ کر دیے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی اور حبس برقرار، بالائی علاقوں میں بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان

مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں ایران کو آنے والے بحری جہازوں پر کنٹرول مل سکتا ہے، رائٹرز

وزیراعظم شہباز شریف آج 2 روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے

اسحاق ڈار کی اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے