یورپ پابندیاں ہٹائے، عالمی جوہری نگرانی تسلیم کرنے کو تیار ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

پیر 8 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایک ’حقیقی اور دیرپا معاہدے‘ کے لیے تیار ہے، جس کے تحت اپنے یورینیم افزودگی پر سخت نگرانی اور واضح حدود تسلیم کرے گا بشرطیکہ اس کے بدلے میں عالمی پابندیاں اٹھائی جائیں۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانوی اخبار گارڈین میں اپنے مضمون میں یورپی ممالک کو متنبہ کیا کہ وہ اس ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ کی وسیع تر پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کے منصوبے سے باز آئیں، ورنہ اس کے ’ناقابلِ تلافی اور تباہ کن نتائج‘ برآمد ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے: ایران جوہری افزودگی ترک نہیں کرے گا یہ قومی وقار کا مسئلہ ہے، عباس عراقچی

انہوں نے کہا کہ اگر یورپ اس موقع کو ضائع کرتا ہے تو اس کے نقصانات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات ڈالیں گے۔ ایران کی خواہش ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی اس اقدام کو مؤخر کریں کیونکہ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کا اصل فائدہ صرف امریکا کو ہوگا اور یورپ تنہا رہ جائے گا۔

جون میں اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں ایک عمارت کا منظر

عراقچی کے مطابق حالیہ دنوں میں ان کی اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے معائنہ کاروں سے مثبت بات چیت ہوئی ہے تاکہ ایران کے ان جوہری مقامات کا دوبارہ معائنہ کیا جا سکے جو حالیہ بمباری میں متاثر ہوئے تھے۔ تاہم دوسری جانب ایران کی قدامت پسند پارلیمنٹ اس بل پر غور کر رہی ہے جس کے تحت اگر اقوام متحدہ نے پابندیاں بحال کیں تو ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکل سکتا ہے۔ اس صورت میں ایران پر معائنہ کاروں کی رسائی ختم ہو جائے گی۔

عراقچی نے یورپی طاقتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ثالثی کے بجائے امریکی پالیسیوں کے سہولت کار بننے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے یورپی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ سخت رویہ اختیار کرنے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں عالمی اسٹیج پر کبھی مرکزی کردار نہیں دے گا بلکہ صرف ’ثانوی کردار‘ سمجھتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے: ایرانی صدر کی روسی ہم منصب کو یقین دہانی

انہوں نے لکھا کہ اگر پابندیاں بحال ہوئیں تو اس سے یورپ کی ساکھ اور عالمی حیثیت بری طرح متاثر ہوگی جبکہ واشنگٹن کا پیغام واضح ہے کہ جگہ بنانے کے لیے یورپ کو غیر مشروط وفاداری دکھانی ہوگی۔

اسرائیل کے حوالے سے عراقچی نے کہا کہ اگر وہ جون میں ایران کے خلاف لڑی جانے والی 12 روزہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے پھر امریکا سے مدد مانگنا پڑے گی کیونکہ ایران کی مسلح افواج اس قابل ہیں کہ اسرائیل کو شکست دے سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا اداکاری کرنے والے اے آئی بوٹس کو آسکر ایوارڈ مل سکے گا؟ اکیڈمی نے وضاحت جاری کردی

سعودی عرب کے علاقے قصیم میں نجی عجائب گھروں کا مقامی تاریخی ورثے کی حفاظت میں اہم کردار

گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کی منظوری، شہر میں جدید سفری سہولت کا منصوبہ حتمی مرحلے میں

چترال سے ہتھیائے گئے نایاب قرآنی نسخے کی برطانیہ میں نیلامی

امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں ’قزاقوں‘ کی طرح کام کر رہی ہے، یہ منافع بخش کاروبار ہے، صدر ٹرمپ

ویڈیو

ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان

پنجاب حکومت کی ’اپنا کھیت اپنا روزگار‘ اسکیم: لیہ کے بے زمین کسان کیا کہتے ہیں؟

ایندھن کی خریداری میں ہڑبونگ: عوام کی گھبراہٹ کتنی بجا، ملک میں ایندھن کتنا باقی؟

کالم / تجزیہ

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری