چیف جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس سپریم کورٹ رولز پر تجاویز پر غور و خوض کے بعد ختم ہوگیا ہے۔
اجلاس میں عدالت عظمیٰ کے 4 ججوں نے شرکت نہیں کی، جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عائشہ ملک نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر سپریم کورٹ رولز سرکولیشن کے ذریعے منظور کرنے پر تحفظات کا اظہارکیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ رولز 1980 منسوخ، نئے قواعد 6 اگست سے نافذ
ذرائع کے مطابق فل کورٹ اجلاس تقریباً آدھا گھنٹہ جاری رہا، اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ ممکنہ طور پر تھوڑی دیرتک جاری کیا جائے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سپریم کورٹ رولز 1980 کو منسوخ کرتے ہوئے سپریم کورٹ رولز 2025 نافذ کر دیے ہیں، جو 6 اگست 2025 سے مؤثر ہوں گے۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ
وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کے مطابق، منسوخ شدہ قواعد کے تحت زیرِ التوا اپیلیں اوردرخواستیں پرانے طریقہ کار کے مطابق نمٹائی جائیں گی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے قواعد کی تیاری کے لیے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔














