اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ٹاؤن ہال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ معرکۂ حق کو صرف ایک دن یا محض جنگی فتح کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ پاکستان کی عزت، غیرت اور خودمختاری کی علامت ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزرا کی کمسن شہید ارتضیٰ عباس کے گھر آمد،معرکۂ حق کے ننھے شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا
انہوں نے کہا کہ وہ جنگوں کے خلاف ہیں کیونکہ انہیں بارود اور موت سے خوف آتا ہے، اور وہ اپنے بچوں کے لیے تعلیم اور صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔
خطاب میں انہوں نے کہا کہ جب وہ فلسطین اور ایران میں تباہی کی تصاویر دیکھتے ہیں تو تصور کرتے ہیں کہ اگر ایسے حالات لاہور میں ہوں تو کیا کیفیت ہوگی، جس سے انہیں خوف محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات بغیر شواہد کے لگائے جاتے رہے، جبکہ بھارت کی جانب سے آج تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ شواہد کا مطالبہ کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف ملک نے بڑی قربانیاں دی ہیں، جن میں اسکولوں، مساجد اور عام شہریوں کی شہادتیں شامل ہیں۔
اسپیکر نے کہا کہ پاکستان نے ایک لاکھ سے زائد قربانیاں دے کر دہشتگردی کا مقابلہ کیا، اس کے باوجود الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایٹمی جنگ کی صورتحال پیدا ہو تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے اور کروڑوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان نے مؤثر کردار ادا کیا، مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ پاکستان آئے اور پاکستان کے مؤقف کو سنا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور عسکری قیادت نے بھی مؤثر انداز میں پاکستان کا مقدمہ پیش کیا۔
مزید پڑھیں: چکوال: معرکۂ حق میں قربانی دینے والے ہیروز کے نام خصوصی تقریب
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق صرف جنگی حکمتِ عملی نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری اور دفاع کا فیصلہ کن موڑ تھا۔
اختتام پر انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف جنگی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کی۔














