اسرائیل نے حماس کے کن رہنماؤں کو نشانہ بنایا؟ کون شہید ہوا اور کون زندہ بچ نکلا؟

بدھ 10 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل نے ایک رہائشی کمپلیکس پر حملہ کیا جسے اسرائیلی فوج نے ’انتہائی درست کارروائی‘ قرار دیا۔ اس حملے میں 6 افراد شہید ہوئے، جن میں 5 فلسطینی اور ایک قطری اہلکار شامل ہے۔

حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے اعلیٰ رہنما اس حملے میں محفوظ رہے، اگرچہ ان میں سے کئی براہِ راست نشانے پر تھے۔

خلیل الحیہ کون ہیں؟

خالد الحیہ، 1960 میں غزہ میں پیدا ہوئے، حماس کے بانی اراکین میں سے ہیں اور اس وقت دوحہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ تنظیم کے اہم مذاکرات کار ہیں اور حالیہ برسوں میں کئی بڑے رہنماؤں کی شہادت کے بعد نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔

اہم کردار: الحیہ حماس کی 5 رکنی قیادت کونسل کے رکن ہیں، جو 2024 کے اواخر میں قائم کی گئی تاکہ جنگ کے دوران تنظیم کو چلایا جا سکے۔

سفارتی مرکزیت: وہ قطر میں رہ کر مصر، اسرائیل اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہے، جن کا مقصد جنگ بندی یا قیدیوں کے تبادلے جیسے معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔

ذاتی نقصانات: 2014 میں ایک اسرائیلی حملے میں ان کے بیٹے اسامہ، بہو اور 3 پوتے شہید ہوئے۔ گزشتہ روز کے حملے میں ان کا ایک اور بیٹا، ہمام الحیہ بھی شہید ہوگیا۔

قطر پر اسرائیلی حملے میں کون شہید ہوا؟

حماس اور قطری حکام کے مطابق حملے میں مندرجہ ذیل افراد شہید ہوئے:

ہمام الحیہ – خلیل الحیہ کا بیٹا

جہاد لباد – الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر

عبداللہ عبدالوحید – محافظ

معمن حسونہ – محافظ

احمد المملوک – محافظ

قطری کارپورل بدر سعد محمد الحمیدی الدوسری – داخلی سلامتی فورس (لخویا) کے اہلکار

یہ بھی پڑھیے قطر کی دوحا میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت

کن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا مگر وہ زندہ بچ گئے؟

اسرائیلی حملے کا اصل ہدف حماس کی اعلیٰ قیادت تھی جو اس وقت دوحہ میں موجود تھی، مگر وہ سب کی سب زندہ بچ نکلی۔ ان میں خلیل  الحیہ حماس کے مرکزی مذاکرات کار، زاہر جبارین مالیاتی امور کے سربراہ اور قیادت کونسل کے رکن خالد مشعل سابق سیاسی سربراہ، طویل عرصے سے قطر میں مقیم محمد درویش قیادت کونسل کے سربراہ موسیٰ ابو مرزوق، عزت الرشق، رازی حمد اور طاہر النونو سمیت دیگر سینئر رہنما شامل تھے۔ یہ سب لیڈرز ایک رہائشی کمپلیکس میں جمع تھے، جہاں امریکا کی حمایت یافتہ جنگ بندی تجویز پر بات چیت ہو رہی تھی۔

موجودہ حماس قیادت کون ہے؟

اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ اور بعد ازاں اسرائیلی کارروائیوں میں متعدد مرکزی شخصیات شہید ہو جانے کے بعد حماس نے ایک عارضی 5 رکنی قیادت کونسل قائم کی۔ اس میں خلیل الحیہ، زاہر جبارین، خالد مشعل، محمد درویش اور نزار عوض اللہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے اسرائیل کا دوحا میں حماس قیادت پر حملہ، ویڈیو منظر عام پر آگئی

اس کے علاوہ غزہ کے اندر عسکری قیادت اب عز الدین الحداد کے پاس ہے، جنہیں اسرائیل 7 اکتوبر کے حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیتا ہے۔

قطر پر اسرائیلی حملہ: عالمی ردعمل اور خطے پر اثرات

قطر نے اپنے ایک اہلکار کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

دوسری طرف ترکی، سعودی عرب، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے بھی اس کارروائی کو خطرناک اور امن کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ جبکہ امریکا نے کہا کہ اسے حملے کی پیشگی اطلاع تھی لیکن وہ اس کارروائی کا حصہ نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے دوحا میں اسرائیلی حملہ قطر کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے، انتونیو گوتریس

یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے براہِ راست قطر کی سرزمین پر اس نوعیت کا حملہ کیا، جس سے خطے میں امن مذاکرات کے مزید تعطل میں جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا