سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی نعمت بھی ہے اور عذاب بھی بن چکا ہے۔ ان کا ایک گروپ پاکستان مخالف ایجنڈے اور علیحدگی پسندوں کے لیے کام کرتا ہے۔
’وی نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر تین سے چار مختلف گروپ سرگرم ہیں۔ ایک گروپ ان لوگوں کا ہے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ کسی نہ کسی طریقے سے ملک سے باہر چلے گئے، جہاں وہ سوشل میڈیا پر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ وجہ سامنے آگئی
’دوسرا گروپ ایسے افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے یوٹیوب پر ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ، معیشت یا کاروباری ماحول بنا لیا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘
فواد چوہدری نے کہاکہ سب سے زیادہ مسئلہ تیسرے گروپ کا ہے، جو پاکستان مخالف ایجنڈے پر کام کرنے والی قوتوں اور علیحدگی پسندوں کے لیے سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس گروپ میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن انہوں نے عمران خان کی تصاویر لگا کر اور پی ٹی آئی کے نام سے پروفائل بنا کر پاکستان، فوج اور شہدا کے خلاف مہمات شروع کر رکھی ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ وہ اس حوالے سے متعدد ٹویٹس بھی کر چکے ہیں اور بار بار پی ٹی آئی کی قیادت کو متوجہ کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر سے خود کو الگ کرے، لیکن پارٹی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
’پی ٹی آئی نے قیادت اپنے مخالفین کے حوالے کردی‘
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا رویہ کئی حوالوں سے متضاد ہے۔ ایک طرف ان لوگوں کو پارٹی کی فیصلہ سازی میں اہم مقام دیا گیا جو ماضی میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے میں پیش پیش تھے، دوسری طرف موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ذاتی نوعیت کی مہمات چلائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض عہدیدار بھی ایسی مہمات کا حصہ بنے اور یوں وہ تیسرے گروپ کے ساتھ مل گئے، جس سے پارٹی کے بیانیے کو بہت نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے باعث پارٹی کے سیاسی بیانیے کو نقصان پہنچا اور ملک کے اندر موجود کارکنوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
’پی ٹی آئی میں بزدار ماڈل نافذ کرکے تجربہ کار قیادت کو باہر کردیا گیا‘
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان نے پارٹی میں موجود ان لوگوں کو خود فارغ کردیا جو ان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے پارٹی میں بزدار ماڈل نافذ کردیا اور ایسے افراد کو آگے لے آئے جن کا پارٹی سے کوئی دیرینہ تعلق نہیں تھا۔
فواد چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر اور دیگر اہم عہدوں کے لیے بھی اپنی قیادت کے بجائے ایسے لوگوں کو آگے کیا جنہیں پارٹی کے اندر سے نہیں لیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم راجا پاناما کیس میں نواز شریف کے وکیل تھے اور ان کے خلاف پیش کی گئی دستاویزات کے معاملے میں بھی ان کا کردار رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل جیسے رہنماؤں کو بھی فیصلہ سازی میں اہم مقام دیا گیا، حالانکہ ان میں سے بعض ماضی میں پی ٹی آئی اور اس کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں نے پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں کردار ادا کیا، لیکن اب پارٹی نے انہیں فیصلہ سازی کا اختیار دے دیا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ اعلیٰ قیادت میں ایسے لوگ شامل ہیں جن کا جماعت کے ساتھ ماضی میں کوئی تعلق نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت اور پارٹی کے پرانے رہنماؤں کے درمیان فاصلہ واضح ہے اور بہت سے سابق رہنماؤں کو موجودہ پارٹی معاملات میں شامل نہیں کیا جاتا۔
’علیمہ خان کا کوئی الگ سیاسی گروپ نہیں‘
پی ٹی آئی میں علیمہ خان کے گروپ کی موجودگی سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ علیمہ خان کا کوئی خاص سیاسی گروپ نہیں ہے۔
ان کے مطابق علیمہ خان نے سلمان اکرم راجا کو پارٹی کا سیکریٹری جنرل بنوایا تھا، لیکن انہیں پارٹی کے سیاسی کارکنوں اور اہم سیاسی شخصیات کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کو ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں کچھ معلومات ہوسکتی ہیں، تاہم وہ سیاسی طور پر سرگرم لوگوں اور پارٹی کی تنظیمی سیاست سے زیادہ واقف نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے ان کا کردار زیادہ ہو۔
’گورنر راج حکومت کی غلطی ہے‘
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے آپریشنز کی مخالفت سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ گورنر راج نافذ کرنا حکومت کی بہت بڑی غلطی ہے اور اس کے نفاذ کو سہیل آفریدی کے اقدامات کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس موضوع پر ایک تفصیلی مضمون بھی لکھا ہے، جس میں گورنر راج اور فوجی آپریشنز کے معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
’پی ٹی آئی کو فی الحال خیبرپختونخوا کی حکومت واپس نہیں لینی چاہیے‘
فواد چوہدری نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی دانش مندی کا مظاہرہ کرے تو اسے فی الحال دوبارہ خیبرپختونخوا کی حکومت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
ان کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی کو کچھ عرصہ صوبے کا انتظام چلانے دیا جائے تاکہ اس کے نتائج سامنے آسکیں۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے بعد جو 11 افراد صوبے کے معاملات میں لگائے گئے ہیں، ان کا بھی خیبرپختونخوا سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس پہلے سیاسی حمایت موجود تھی، لیکن اس اقدام سے وہ حمایت بھی ختم کردی گئی ہے، جس کے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
’خیبرپختونخوا کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز‘
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اب بھی وقت ہے کہ حکومت آل پارٹیز کانفرنس بلائے اور خیبرپختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے۔
انہوں نے کہاکہ جب بھی قومیں مشکل حالات سے گزرتی ہیں تو تمام سیاسی قوتوں کو ایک جگہ بٹھانا ضروری ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات، ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور مؤقف سننے پر اتفاق کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق مسئلہ صرف پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا ہے۔
’حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں‘
فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات پہلے بھی کئی مرتبہ ہو چکے ہیں، لیکن اصل مسئلہ مذاکرات کے اعلانات نہیں بلکہ ان کی سنجیدگی اور درست نمائندگی ہے۔
ان کے مطابق جب انہوں نے حکومتی نمائندوں ایاز صادق اور رانا ثنا اللہ سے ملاقات کی تو ان سے پوچھا کہ اگر حکومت واقعی مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو دوسری طرف کن لوگوں کو بٹھایا جائے گا؟
انہوں نے کہا کہ کیا علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی، گوہر خان یا سلمان اکرم راجا عمران خان کے پاس جا کر ان سے بات کرسکتے ہیں، یہ رہنما عمران خان سے ملاقات تو کرسکتے ہیں، لیکن پارٹی کے اندر فیصلہ سازی اور مذاکرات کے لیے ان کی نامزدگی کے پیچھے اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کے پرانے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا گیا۔
فواد چوہدری کے مطابق انہوں نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ شاہ محمود قریشی اور محمود الرشید جیسے رہنماؤں کو کچھ ریلیف دیا جائے تاکہ وہ حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرسکیں اور پھر عمران خان تک مذاکرات کا پیغام پہنچا سکیں۔
گوہر خان، شاہ محمود قریشی اور بشریٰ بی بی پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی بنانے کی تجویز
فواد چوہدری نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی واقعی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے گوہر خان، شاہ محمود قریشی اور بشریٰ بی بی پر مشتمل ایک کمیٹی بنانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے بھی جیل کاٹی ہے اور ان کے بھی اس معاملے میں اپنے مفادات اور تحفظات ہیں، اس لیے انہیں مذاکراتی عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں واقعی معاملات بہتر کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ موجودہ صورتحال اسی طرح چلتی رہے گی۔
’ہمارا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں، عمران خان سے ہے‘
فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے موجودہ رہنماؤں اور بعض سابق رہنماؤں کے درمیان بھی فاصلے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کا موجودہ پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں پارٹی کے اہم اجلاسوں میں بھی نہیں بلایا جاتا۔
ان کے مطابق ان کا تعلق بھی موجودہ پارٹی قیادت سے نہیں بلکہ عمران خان سے ہے۔ جب عمران خان جیل سے باہر آئیں گے اور نئی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے تو اس وقت ان کا کردار اور وابستگی واضح ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں بعض لوگ بہت تیزی سے آگے آتے ہیں اور پھر تیزی سے منظر سے غائب بھی ہو جاتے ہیں، جبکہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے لیے سیاست کا ایک طویل سفر ہے۔
’مریم نواز نے گورننس کا بیڑہ غرق کردیا، موازنہ کریں تو بزدار بہتر تھا‘
فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورننس کا بیڑہ غرق کردیا ہے اور اگر ان کا موازنہ عثمان بزدار سے کیا جائے تو وہ بہتر لگیں گے۔
اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے کسانوں سے گندم نہ خریدنے اور پنجاب سے باہر فروخت نہ کرنے کے فیصلے نے کسان کی کمر توڑ دی، اور اس کی وجہ سے گندم کی پیداوار 20 فیصد کم ہو گئی۔ اسی وجہ سے معیشت تباہ ہوگئی اور پھر تعلیم اور صحت کا بجٹ کم کر کے بازار ٹھیک کرنے پر لگا دیا۔
’ملک میں گورننس کا نظام کمزور، وسائل کے استعمال کا جائزہ ضروری ہے‘
فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں نظام کے خاتمے یا اس کے ناکارہ ہو جانے کی بحث اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گورننس کا معیار انتہائی خراب ہے اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالات موجود ہیں۔
ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی اداروں کو جتنے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، کیا وہ اتنی ہی کارکردگی بھی دکھا رہے ہیں؟
’نئے انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز بنیادی نوعیت کی اصلاح ہے‘
فواد چوہدری نے محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ یہ دراصل اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یعنی ڈیولوشن کا معاملہ ہے۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور کسی حد تک مسلم لیگ نون بھی اس معاملے پر تحفظات رکھتی ہیں، تاہم اصل مسئلہ شریف اور زرداری خاندانوں کا ہے، کیونکہ موجودہ سیاسی ڈھانچے میں سندھ اور پنجاب پر ان خاندانوں کا سیاسی کنٹرول ہے اور وہ اپنے وسائل اور اختیارات کی تقسیم میں تبدیلی نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبے یا ایسے انتظامی یونٹس جن کی اپنی اسمبلیاں ہوں، قائم کرنا اختیارات کی منتقلی کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا۔
ان کے مطابق موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے دونوں اہم اتحادی اس تجویز کے مخالف ہیں، جبکہ اس کے حامی عمران خان اور پی ٹی آئی جیل میں ہیں۔ ان کے منشور میں بھی نئے انتظامی یونٹس بنانے کا تصور موجود ہے۔
’اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے نہیں‘
فواد چوہدری نے کہا کہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس کے لیے واضح طور پر تیار نظر نہیں آتی۔
ان کے مطابق مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی حکمت عملی یہ دکھائی دیتی ہے کہ معاملے کو کچھ عرصے کے لیے آگے بڑھایا جائے اور دیکھا جائے کہ سیاسی حالات کس طرف جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سینیٹ کے انتخابات پہلے ہو جاتے ہیں تو 2029 سے پہلے نئے صوبے بنانے کا امکان مشکل ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا کرنا ہے تو آئینی ترمیم آئندہ ماہ ہی لانا ہوگی۔
ان کے مطابق بعض قریبی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے فیصلہ ہو سکتا ہے، تاہم ابھی کسی کو اس کے خدوخال کا علم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بارے میں بھی پہلے سے زیادہ معلومات نہیں تھیں، اس لیے اٹھائیسویں ترمیم کے بارے میں بھی ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔
آئینی ترمیم کے لیے ریفرنڈم ضروری یا پارلیمانی راستہ؟
فواد چوہدری نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف بھی پندرہویں آئینی ترمیم لانے کی کوشش کر چکے ہیں، جس کے تحت ان کے لیے خلیفۃ المومنین بننے کا تصور سامنے آیا تھا، تاہم اس وقت خورشید قصوری نے اس پر اعتراض اٹھایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں پندرہ یا سترہ صوبے بنانے ہیں تو اس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ اس حوالے سے سوال یہ ہے کہ پہلے ریفرنڈم ہوگا یا براہ راست آئینی ترمیم لائی جائے گی۔
’نئے صوبوں کے معاملے پر عمران خان کا کردار اہم ہے‘
فواد چوہدری نے کہا کہ اگر واقعی نئے صوبے بنانے میں سنجیدگی ہے تو عمران خان اور پی ٹی آئی کو اس عمل میں شامل کرنا ضروری ہوگا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت، رشتے دار اور سوشل میڈیا کے جہادی عمران خان کی رہائی نہیں چاہتے، خواجہ آصف
ان کے مطابق پی ٹی آئی اور عمران خان کو شامل کیے بغیر نئے صوبے بنانے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ معاملہ ان کے سیاسی منشور اور مؤقف کا بھی حصہ رہا ہے۔
جنرل باجوہ سے ملاقات
فواد چوہدری نے حال ہی میں ایک شادی میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ ’جنرل باجوہ نے کہاکہ اگر یہ لوگ آپ کی باتیں مان لیں تو حالات کافی بہتر ہو سکتے ہیں۔‘







