وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے بعد سے میرا پاسپورٹ تاحال بلاک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شراب و اسلحہ برآمدگی کیس: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری
میڈیا سے بات چیت میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کئی بار پاسپورٹ کیلیے اپلائی کیا مگر جاری نہیں کیا گیا،9 مئی کے بعد میرا پاسپورٹ بلاک ہے، افغانستان جانے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
میرا پاسپورٹ تو 9 مئی کے بعد سے بلاک ہے، لیکن خان صاحب اگر آپ کا حکم ہوا تو مجھے افغانستان جانے کے لئے کسی ویزے کی ضرورت نہیں، میں بغیر ویزے کے بھی جا سکتا ہوں۔ pic.twitter.com/d56iEJhBEI
— Harmeet Singh (@HarmeetSinghPk) September 10, 2025
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا حکم ہو تو بغیر پاسپورٹ بھی افغانستان جاسکتا ہوں، افغان حکومت سے بات چیت کرنا صوبے کا نہیں وفاق کا کام ہے، وفاقی حکومت نے افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک مشترکہ جرگے کے قیام پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر وفاق چاہے تو وفاقی نمائندے بھی جا سکتے ہیں تاہم صوبائی حکومت نے اپنے وفد کو فائنل کیا ہے۔
اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل آمد کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا 3 سال سے پاسپورٹ بلاک ہے، وہ بغیر پاسپورٹ افغانستان کیسے جا سکتے ہیں۔
علی امین گنڈا پور کیسے جا سکتے ہیں ان کا تو تین سال سے پاسپورٹ ہی بلاک ہے، ایسی صورت میں وہ کیسے افغانستان جا سکتے ہیں، بیرسٹر گوہر pic.twitter.com/KhKZBbih33
— Tayyab Khan (@TayyabKhanARY) September 10, 2025
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی روکنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کا افغانستان سے مذاکرات پر زور
یاد رہے کہ چند ماہ پہلے علی امین گنڈاپور نے صوبے میں دہشتگردی کی روک تھام اور تجارت کے فروغ کے لیے افغانستان سے براہ راست مذاکرات کا اعلان کیا تھا، اور اس کے لیے ترجمان کے پی حکومت بیرسٹر سیف کی سربراہی میں قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک وفد یا جرگہ تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم وفاق کی جانب سے مخالفت اور اجازت نہ ملنے سے بات آگے نہیں بڑھی تھی۔
خیبرپختونخوا حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔














