قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے ڈائریکٹر جنرل سلیم شہزاد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
چیئرمین نیب کو بھجوایا گیا 4 صفحات پر مشتمل استعفیٰ موصول ہو گیا ہے، جس میں سلیم شہزاد نے اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کی ہیں۔
سابق ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد اپنے عہدے سے مستعفیٰ pic.twitter.com/jVpffGqTfh
— Riaz ul Haq (@Riazhaq) September 10, 2025
انہوں نے تحریر کیاکہ وہ نہایت بھاری دل کے ساتھ استعفیٰ دے رہے ہیں کیونکہ صحت کے مسائل اور دیگر ذاتی وجوہات کے باعث مزید خدمات سرانجام نہیں دے سکتے۔
سلیم شہزاد نے کہاکہ الحمدللہ! میرے خلاف کرپشن کے الزامات کبھی ثابت نہیں ہو سکے۔ فوجی خدمات کے دوران انجری کے بعد میں میجر کے رینک پر ریٹائر ہوا تھا۔
استعفیٰ میں انہوں نے مزید بتایا کہ وہ 1999 میں نیب کے بانی اراکین میں شامل تھے، جب انہوں نے 18ویں گریڈ کے افسر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور بعدازاں ترقی پا کر گریڈ 21 میں ڈی جی کے عہدے تک پہنچے۔
سابق ڈی جی نیب کے مطابق خیبرپختونخوا میں خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے کارکردگی کے کئی ریکارڈ قائم کیے، جبکہ اپریل 2017 میں بطور ڈی جی نیب لاہور تعینات ہوئے۔
انہوں نے لکھا کہ لاہور میں عوامی مفاد میں نمایاں کام کیا اور 947 ارب روپے کی ریکوریز کرائیں، جبکہ ان سے قبل 17 برسوں میں صرف 44 ارب روپے کی برآمدگیاں ممکن ہو سکیں۔
استعفیٰ میں سلیم شہزاد نے یہ بھی کہاکہ بطور ڈی جی نیب لاہور وہ مسلسل پانچ سال تک خدمات انجام دیتے رہے، میگا کرپشن کیسز پر کارروائیاں کیں اور یہ ادراک بھی تھا کہ ان اقدامات پر سخت ردِعمل آ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیب میں بڑے پیمانے پر رد و بدل، مرزا محمد عرفان بیگ نئے ڈی جی نیب راولپنڈی تعینات
انہوں نے چیئرمین نیب نذیر بٹ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمیشہ کھلے دل سے حقیقت سے آگاہ رکھا۔ سلیم شہزاد نے نیب عملے اور اپنے بچوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔














