مریخ پر زندگی کے آثار: نئے اور مضبوط سراغ مل گئے

بدھ 10 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مریخ کی سطح پر دریافت ہونے والی غیرمعمولی چٹانیں اب تک کے سب سے اہم شواہد فراہم کر رہی ہیں کہ ماضی میں سرخ سیارے پر زندگی موجود ہو سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کا چاند و مریخ پر رابطوں کا نیا جال بچھانے کا منصوبہ، امریکی کمپنیوں سے تجاویز طلب

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے پرسیورینس روور نے مریخ کے ایک خشک دریا کے کنارے کیچڑ نما چٹانیں دریافت کی ہیں جن پر تیندوے کی کھال اور خشخاش کے دانوں جیسے نشانات پائے گئے ہیں۔

یہ نشانات ایسے معدنیات پر مشتمل ہیں جن کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ قدیم مائیکروبی زندگی سے وابستہ کیمیائی عمل کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔

زندگی یا فطری عمل؟

مریخ پر ملنے والے نشانات۔

اگرچہ ان معدنیات کی تشکیل فطری ارضیاتی عوامل کے ذریعے بھی ممکن ہے لیکن یہ دریافت ناسا کے مطابق ممکنہ حیاتیاتی نشانیاں کہلانے کے معیار پر پوری اترتی ہیں یعنی وہ شواہد جو ممکنہ طور پر کسی حیاتیاتی ذریعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور جن کی مزید چھان بین ضروری ہے۔

امپیریل کالج لندن کے سیاروی سائنسدان اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر سنجیو گپتا کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا کیوں کہ اگر زمین پر ایسی چٹانیں ملتیں تو ہم کہتے کہ یہ مائیکروبی عمل کا نتیجہ ہیں۔

مزید پڑھیے: ناسا نے مریخ پر پانی کے غائب ہونے کا نیا سبب دریافت کر لیا

سنجیو گپتا نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمیں زندگی مل گئی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ ہمارے پاس اب ایک نیا اور مضبوط سراغ موجود ہے۔

ناسا کی سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر نکولا فاکس نے کہا کہ یہ کچھ ایسا ہے جیسے کوئی فوسل بچ گیا ہو شاید کسی مخلوق کا کھایا ہوا کھانا یا پھر اس کا فضلہ ہو سکتا ہے ہم اسی کا نشان دیکھ رہے ہوں۔

روکس کو زمین پر لا کر جانچنے کی ضرورت

چٹانوں میں موجود معدنیات واقعی کسی مائیکروب کی وجہ سے بنی ہیں یا نہیں اس کا حتمی فیصلہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب انہیں زمین پر لا کر تجربہ کیا جائے۔

پرسیورینس روور جو سنہ 2021 میں مریخ پر اتری تھی گزشتہ 4 برسوں سے Jezero Crater نامی علاقے کی کھوج میں مصروف ہے جو کبھی ایک قدیم جھیل اور دریا کا دہانہ تھا۔ یہی پرسیورینس وہ چٹانیں لایا ہے جنہیں برائٹ اینجل فاؤنڈیشن کہا جا رہا ہے۔ یہ چٹانیں تقریباً 3.5 ارب سال پرانی ہیں اور مٹی سے بنی  مڈ اسٹون جیسی کی ہیں۔

پروفیسر جوئل ہیوروز، نیویارک کی اسٹونی بروک یونیورسٹی کے محقق اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف نے بتایا کہ ہم نے فوری طور پر اندازہ لگا لیا تھا کہ ان چٹانوں میں دلچسپ کیمیائی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کا چاند پر دوبارہ انسان بھیجنے اور بیس کیمپ قائم کرنے کا اعلان

روور نے ان چٹانوں کا تجزیہ کرنے کے لیے مختلف سائنسی آلات استعمال کیے اور یہ ڈیٹا زمین پر سائنسدانوں کو بھیجا گیا۔ ہیوروز کے مطابق ہمیں ایسے کیمیائی ردعمل کے شواہد ملے ہیں جو اس وقت ہوئے جب جھیل کے فرش پر موجود کیچڑ نے نامیاتی مادّے کے ساتھ تعامل کیا اور ان دونوں نے مل کر نئی معدنیات تشکیل دیں۔

 

زمین پر عموماً ایسے ردعمل مائیکروبی زندگی کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔

زندگی کی سب سے مضبوط ممکنہ علامت؟

خیالی تصویر۔

ہیوروز کا کہنا ہے کہ یہ ان خصوصیات میں سے ایک ممکنہ وضاحت ہو سکتی ہے کہ مائیکروبی زندگی نے یہ اثرات چھوڑے ہوں اور یہ اب تک کی سب سے قابل اعتبار ممکنہ  بائیو سگنیچرز لگتے ہیں جو ہمیں مریخ پر ملے ہیں۔

تحقیق میں غیر حیاتیاتی طریقہ کار (جیسے بلند درجہ حرارت پر ہونے والے قدرتی کیمیائی عمل) کو بھی مدنظر رکھا گیا لیکن ماہرین کے مطابق چٹانوں میں حرارت کے آثار نظر نہیں آتے۔ لہٰذا غیر حیاتیاتی نظریے کو مکمل طور پر مسترد تو نہیں کیا جا سکتا مگر اس پر کچھ سوالات ضرور ہیں۔

مریخی نمونوں کی واپسی کا مستقبل غیر یقینی

یہ بھی پڑھیے: پراسرار سیارچہ خلائی مخلوق کا بھیجا گیا کوئی مشن ہوسکتا ہے، ہارورڈ کے سائنسدان کا دعویٰ

ناسا کی خلائی گاڑی پرسیورینس روور ان قیمتی چٹانوں کے نمونے جمع کر چکی ہے اور محفوظ کنستروں میں رکھ چکا ہے تاکہ وہ آئندہ کسی مشن کے ذریعے زمین پر لائے جا سکیں۔

ناسا کی خلائی گاڑی پرسیورینس روور۔

ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے ’مارس سیمپل ریٹرن مشن‘ تجویز کیا گیا تھا لیکن سنہ 2026 کے بجٹ میں ممکنہ کٹوتیوں کی وجہ سے اس منصوبے کی مستقبل غیر یقینی ہو چکی ہے۔

ادھر چین بھی مریخ سے نمونے واپس لانے کا مشن تیار کر رہا ہے جو ممکنہ طور پر سنہ 2028 میں لانچ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اڑن طشتری والی مخلوق کا تعلق کس سیارے سے ہے، انوکھا نقطہ نظر

پروفیسر سنجیو گپتا نے کہا کہ ہمیں یہ نمونے زمین پر لا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر سائنسدان اس وقت تک پریقین نہیں ہوں گے جب تک یہ چٹانیں ان کے ہاتھ میں نہ ہوں اور یہی ہمارا سب سے اہم ہدف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں رمضان: ثقافت، روحانیت اور یکجہتی کو سمجھنے کا بہترین موقع

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟