پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز دوسرے کاروباری سیشن میں شدید مندی دیکھنے میں آئی اور سرمایہ کاروں کے فروخت کے دباؤ کے باعث مارکیٹ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
دوپہر 3 بج کر 20 منٹ تک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,556.96 پوائنٹس کمی کے بعد 154,584.28 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو کہ ایک فیصد کمی کے برابر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی کیفیت اور معاشی خدشات کے باعث مارکیٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ کار بھی فروخت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -453.29 points (-0.29%) at midday trading. Index is at 155,687.96 and volume so far is 103.56 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/8fhVAx5zUC— Investify Pakistan (@investifypk) September 12, 2025
بینکنگ، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، ریفائنری اور بجلی پیدا کرنے کے شعبوں میں نمایاں فروخت دیکھی گئی۔
اہم اور مستحکم شیئرز جیسے این آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل سرخ زون میں ٹریڈ کر رہے تھے۔
گزشتہ روز یعنی جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج منفی انداز میں بند ہوا تھا، جہاں منافع سمیٹنے کے رجحان نے ٹریڈنگ فلور پر غلبہ پایا اور انڈیکس 879.55 پوائنٹس یعنی 0.56 فیصد کمی کے ساتھ 156,141.25 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
بین الاقوامی منڈیوں میں جمعہ کو ایشیائی اسٹاکس نے وال اسٹریٹ کی پیروی کرتے ہوئے تیزی دکھائی کیونکہ امریکا میں سود کی شرح میں مزید کمی کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو سہارا دیا۔
جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کے انڈیکس ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ گئے، جہاں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلقہ آمدنی میں اضافے کی توقعات نے سرمایہ کاری کو تقویت دی۔

امریکا میں صارف قیمتوں کی رپورٹ فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود میں کمی کے فیصلے کی آخری بڑی رکاوٹ سمجھی جا رہی تھی، مگر رپورٹ نسبتاً نرم رہی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس پہلی مرتبہ 1,57,000 پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
سٹی بینک کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اگست کے لیے پی سی ای یعنی فیڈ کا پسندیدہ مہنگائی کا پیمانہ 2.9 فیصد پر مستحکم رہے گا۔
مارکیٹ کے تجزیے کے مطابق اگلے ہفتے شرح سود میں چوتھائی پوائنٹ کمی کا امکان 100 فیصد ہے، جبکہ رواں سال مزید کمی کے امکانات بھی 90 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔
امریکا میں 10 سالہ بانڈ ییلڈز گزشتہ 2 ہفتوں میں 20 بیسس پوائنٹس کم ہوئے ہیں جسے ماہرین شرح سود میں کمی کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
ایشیا میں جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ نئی بلند ترین سطح پر جا پہنچا اور اس ہفتے کی مجموعی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔
جنوبی کوریا کا انڈیکس 1.1 فیصد بڑھا، جو ہفتہ وار 5 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
چین کے بلیو چپ شیئرز بھی 0.2 فیصد بڑھ کر جنوری 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچے، جبکہ ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس جاپان کے علاوہ 1.2 فیصد اوپر گیا۔













