لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو سپریم کورٹ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی جلانے کے کیس کا 125 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلہ جج منظر علی گل نے تحریر کیا۔
عدالت نے صنم جاوید، محمد صدیق، طیب علی، سید فیصل اختر اور ظریف خان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے خدیجہ شاہ سمیت 14 مجرموں کی گرفتاری کا بھی حکم دے دیا جو سزا کے دن عدالت میں پیش نہ ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کو رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری، پی ٹی آئی کے 17 قائدین کو 2 دفعات کے تحت 10، 10 سال کی سزا
فیصلے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو مجموعی طور پر 48 برس قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ عدالت کے مطابق تمام سزائیں بیک وقت کاٹی جائیں گی، جبکہ مجرموں کو ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
تحریری فیصلے میں شاہ محمود قریشی کی بریت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کا کیس دیگر ملزمان سے مختلف ہے۔ انہوں نے عدالت میں شواہد پیش کیے کہ وہ واقعے کے وقت ملتان سے کراچی جا رہے تھے اور موقع پر موجود نہیں تھے۔
عدالت کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد کارکنوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاج پر اکسایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 9مئی کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے، فارمیشن کمانڈرز کانفرنس
فیصلے میں لکھا گیا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر ملزمان نے ہدف کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کی۔ مزید کہا گیا کہ کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کارکنان بانی عمران خان کی ہدایت کو مقدس تصور کرتے ہیں اور انہیں ایک ریڈ لائن اور روحانی شخصیت سمجھتے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں اسی کیس میں عدالت نے شاہ محمود قریشی سمیت 21 ملزمان کو بری جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ سمیت 18 ملزمان کو سزا سنائی تھی۔














