پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی اور جیل خانہ جات کے ڈیٹا انٹیگریشن کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، فرانزک سائنس ڈیٹابیس کی مدد سے قتل، ڈکیتی، ریپ اور راہزنی سمیت 240 اندھے مقدمات میں ملزمان کا تعین کیا گیا۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق فرانزک سائنس اتھارٹی کے پاس اس وقت 4 لاکھ 40 ہزار قیدیوں کے فنگر پرنٹس کا ریکارڈ موجود ہے، جبکہ مزید قیدیوں کے بایومیٹرک ڈیٹا کو شامل کرنے کے لیے پریزن افسران کی خصوصی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ کیوں؟ محکمہ داخلہ نے بتادیا
تربیتی سیشن میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر اور ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی ڈاکٹر محمد امجد بھی موجود تھے۔
پنجاب بھر کی جیلوں سے آئے 120 افسران کو قیدیوں کے فنگر پرنٹس اور 3 مختلف زاویوں سے تصاویر محفوظ کرنے کے حوالے سے عملی تربیت دی گئی۔ سیکرٹری داخلہ کے مطابق پنجاب کی تمام جیلوں سے قیدیوں کے فنگر پرنٹس روزانہ فرانزک سائنس اتھارٹی کو موصول ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: گجرات ڈسٹرکٹ جیل سے 100 خطرناک قیدیوں کو لاہور جیل کیوں منتقل کیا گیا؟
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا کہنا تھا کہ پنجاب کی جیلوں کو ٹیکنالوجی ہب میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں قیدیوں کی اصلاح کے اقدامات کے ساتھ ساتھ جرائم کی بیخ کنی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
تربیتی سیشن کے دوران جیلوں میں نصب پی ایف ایس اے سسٹم کے عملی استعمال کا ڈیمو بھی دیا گیا جس کا سیکرٹری داخلہ نے جائزہ لیا اور کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والے افسران میں اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر انہوں نے فرانزک سائنس اتھارٹی کی نئی ٹریننگ لیبارٹری اور بلڈنگ کا بھی دورہ کیا۔














