ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دیا جائے، سپریم کورٹ

پیر 22 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے حکومتی انٹرا کورٹ اپیلوں کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں ملٹری ٹرائل کے 5 ججز کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا گیا اور اپیل کے حق کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو 45 دن میں قانون سازی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 7 مئی کو انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کی تھیں۔ جسٹس امین الدین خان نے 68 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے 47 صفحات کا اضافی نوٹ لکھا۔

جسٹس امین، جسٹس حسن رضوی، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال نے اضافی نوٹ سے اتفاق کیا، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم افغان نے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔

مزید پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزاؤں کو درست قرار دے دیا

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ میں بنیادی ضابطہ موجود ہے، لیکن عام شہریوں کے لیے مناسب اپیل فورم کا فقدان ہے۔ فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ شہریوں کے لیے ہائیکورٹ میں آزادانہ اپیل کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دیا جائے اور حکومت اس کے لیے 45 دن کے اندر قانون سازی کرے۔ کیس کے دوران اٹارنی جنرل نے کئی بار حکومتی ہدایات کے لیے وقت مانگا اور عدالت کو یقین دلایا کہ عدالتی حکم کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آزاد حق اپیل کی عدم موجودگی میں آرمی ایکٹ میں موجود ضابطہ کار عام شہریوں کے لیے آئینی طور پر مکمل نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حق اپیل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے قانون سازی کے ذریعے مداخلت ضروری ہے اور حکومت و پارلیمان کو ہدایت دی کہ وہ 45 دن کے اندر اس حوالے سے قانون سازی کریں۔

مزید پڑھیں: فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل: آرمی ایکٹ ایک بلیک ہول ہے، سلمان اکرم راجہ کا موقف

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائلز آئینی طور پر بنیادی حقوق کے نظام سے باہر رکھے گئے ہیں، تاہم ملٹری ٹرائل میں بھی آرٹیکل 10 اے میں وضع معیار کی پاسداری ضروری ہے۔ فوجی عدالتوں میں ٹرائل اختیارات کی تقسیم کے اصول سے متصادم نہیں ہے اور آرٹیکل 175(3) فوجی عدالتوں کے وجود کی نفی نہیں کرتا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پانچ رکنی بینچ نے گزشتہ فیصلے میں اس نتیجے پر پہنچنے میں غلطی کی تھی، جس کی تصحیح اس تحریری فیصلے کے ذریعے کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے