عظمیٰ بخاری کی شرجیل میمن پر تنقید، بلاول اور یوسف رضا گیلانی کو معتبر قرار دے دیا

منگل 23 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اپنے سندھ کے ہم منصب شرجیل میمن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہر وقت بھاشن دینے کا شوق ہے۔ اگر سندھ میں واقعی بہتر انتظامات تھے تو سیلاب زدگان کی مکمل بحالی ابھی تک کیوں نہیں ہو سکی؟

یہ بھی پڑھیں: شرجیل میمن اور عظمیٰ بخاری آمنے سامنے آگئے

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تعریف کی ہے اور تسلیم کیا ہے کہ پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں بہترین منجمنٹ ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ اس سے بھی زیادہ معتبر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو سمجھتی ہیں، جو ملتان میں موجود رہ کر ریسکیو و ریلیف آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں، نہ کہ کراچی بیٹھ کر بیانات دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی سیاست ملتان میں ہے اور وہ عملی طور پر ریلیف سرگرمیوں میں شامل ہیں، اس لیے بلاول اور گیلانی دونوں ہی پیپلز پارٹی کے معتبر رہنما ہیں اور ان ہی کی بات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرلیے، عظمیٰ بخاری

ان کا مزید کہنا تھا کہ محض الزامات لگانا آسان ہے، سندھ میں گزشتہ بار آنے والے سیلاب کے بعد بھی متاثرین کی مکمل بحالی ممکن نہیں ہو سکی۔ کراچی اور سندھ کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے مطابق پنجاب کے 27 شہر متاثر ہوئے ہیں، 4 ہزار 794 مواضع جات اور 47 لاکھ 23 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز اور ان کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں موجود رہ کر ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ایک جامع ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت مکمل تباہ شدہ گھروں کو 10 لاکھ روپے، جزوی متاثرہ گھروں کو 5 لاکھ روپے، متاثرہ کسانوں کو فی ایکڑ 20 ہزار روپے اور مال مویشی ضائع ہونے والے افراد کو فی جانور 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے واضح کیا کہ یہ ریلیف پیکیج پنجاب حکومت اپنے وسائل سے فراہم کر رہی ہے اور کسی بیرونی امداد کا انتظار نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے ہی وسائل سے اس بحران پر قابو پا لیں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل شرجیل میمن نے بیان میں کہا تھا کہ پنجاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریاں غفلت اور ناتجربہ کاری کے باعث ہوئیں، جبکہ سندھ میں بہترین انتظامات کی وجہ سے نقصانات کم ہوئے۔ ان کے مطابق اگر پنجاب میں بہتر منصوبہ بندی کی جاتی تو اتنی بڑی تباہی سے بچا جا سکتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان