امریکا میں مقیم خالصتانی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں اور اُن کی تنظیم سکھس فار جسٹس کے خلاف بھارت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یہ کارروائی اس ویڈیو کے بعد کی گئی جس میں پنوں نے یوم آزادی پر وزیرِاعظم نریندر مودی کو قومی پرچم لہرانے سے روکنے پر 11 کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی فوج کو پنجاب سے گزر کر پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دیں گے، سکھ رہنما گرپتونت سنگھ
قومی تحقیقاتی ایجنسی نے یہ مقدمہ اُس ویڈیو کی بنیاد پر درج کیا جس میں پنوں نے بھارت کی خودمختاری کو کھلے عام چیلنج کیا۔ یہ اعلان 10 اگست کو لاہور پریس کلب میں منعقدہ ’میٹ دی پریس‘ تقریب کے دوران کیا گیا جس سے پنوں نے امریکا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں پنوں نے بھارت کے خلاف تقریر کرتے ہوئے ’خالصتان کا نقشہ‘ جاری کیا جس میں پنجاب، دہلی، ہریانہ اور ہماچل پردیش کو شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان میں معصوموں کا خون، مودی ذمہ دار ہے: گرپتونت سنگھ پنوں
ایف آئی آر کے مطابق پنوں نے بھارت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے اور سکھ برادری کو بھارت کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔
ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ سکھس فار جسٹس نے بھارت کے خلاف لڑنے کے لیے ‘شہدا گروپ’ تشکیل دینے کا دعویٰ کیا ہے۔














