بلوچستان میں معصوموں کا خون، مودی ذمہ دار ہے: گرپتونت سنگھ پنوں

جمعرات 22 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معرکہ بنیان المرصوص کے تناظر میں بلوچستان میں ہونے والے دہشتگرد حملے پر سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کی ریاستی دہشتگردی قرار دیا ہے۔

گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارت نے بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائی کرکے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا، جو ناقابل معافی جرم ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ دستیاب شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ حملہ بھارتی پراکسیز نے مودی سرکار کی ایما پر کیا، جس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: خضدار اسکول بس حملہ: 3 بچوں سمیت 5 افراد شہید، متعدد بچے زخمی

انہوں نے کہا کہ سکھ کمیونٹی اس دکھ کی گھڑی میں شہدا کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور اس بزدلانہ حملے کے خلاف آواز بلند کرتی رہے گی۔ پنوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں جو خون بہایا گیا، اُس کے پیچھے مودی کا ہاتھ ہے اور دنیا کو اس کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی ادارے بلوچستان میں بھارتی دہشتگردی کا نوٹس لیں اور معصوم جانوں کے ضیاع پر بھارت سے جواب طلب کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں قید کی سزا، کروڑوں روپے ادا کرنے کا حکم

چین کا دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ کا کامیاب تجربہ، خلائی دوڑ میں اہم پیشرفت

2 روزہ خونریز جھڑپوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان بندوقیں خاموش، سفارتی کوششیں دوبارہ تیز

بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سید علی گیلانی سمیت 6 حریت رہنماؤں پر 27 سالہ پرانے مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی

چینی روایتی موسیقی کی محفل، نوجوان فنکاروں کی مشترکہ پرفارمنس

ویڈیو

اسلام آباد مینگو فیسٹیول: آموں کی بہار، شہریوں کا زبردست رش

خیبر پختونخوا: ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں اضافے کی قانون سازی پر شدید عوامی ردعمل

استحکام پاکستان پارٹی وفاقی سیاسی قوت، عمران خان کے برعکس علیم خان کام زیادہ اور باتیں کم کرتے ہیں، گل اصغر خان

کالم / تجزیہ

خارجی عفریت اور ہمارا فکری محاذ

کفالت نہیں، خود انحصاری

فتنۂ الخوارج کا بہیمانہ اندازِ قتل و قتال، جہاد یا حیوانیت..؟