’ہائیکورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے‘ جسٹس طارق محمود جہانگیری کا عدالتی بیان

جمعرات 25 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ کے روبرو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کراچی یونیورسٹی کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری کا بیان

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ انہوں نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، انہیں کبھی کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جسٹس جہانگیری جعلی ڈگری کیس، سندھ ہائیکورٹ نے حکم نامہ جاری کردیا

جسٹس کے کے آغا کے ریمارکس

جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ ہم پہلے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کا معاملہ دیکھیں گے، جس پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ وہ اس کیس میں متاثرہ فریق ہیں۔

وکلا کے دلائل اور اعتراضات

جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا کہ جس نے کیس فائل کیا ہے وہ وکلا کہاں ہیں؟

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ متاثرہ شخص کو شامل کیے بغیر کیسے درخواست قابلِ سماعت ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ، کراچی بار و دیگر کے وکلا نے بینچ پر ہی اعتراض کر دیا۔

بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ بینچ میں شامل جسٹس عدنان الکریم میمن نے جوڈیشل آرڈر کے ذریعے فاروق ایچ نائیک کے کیسز اپنے روبرو مقرر کرنے سے منع کیا تھا۔

سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی درخواست

سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے فوری سماعت کی درخواست دائر کی اور مؤقف اپنایا کہ اگر کوئی آرڈر جاری نہ کیا گیا تو کمیشن کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جعلی ڈگری کیس: جسٹس جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

تاہم فوری سماعت کی درخواست میں کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی تھی۔ انتظامی آرڈر کے ذریعے کیس کو آئینی بینچ 2 سے بینچ 1 میں منتقل کیا گیا۔

جسٹس عدنان الکریم میمن اور بیرسٹر صلاح الدین کا مؤقف

جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ ان کا اس کیس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ ہمارا اعتراض ذاتی نہیں بلکہ قانونی ہے۔ جسٹس کے کے آغا نے بیرسٹر صلاح الدین کو کہا کہ ہم آپ کے اعتراضات پر آرڈر کریں گے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور جامعہ کراچی کے وکیل کے دلائل

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ فوری سماعت کی درخواست نمٹائی جا چکی ہے، اگر فریقین کو اعتراض ہے تو اپیل دائر کریں۔

وکیل جامعہ کراچی طاہر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے عدالت کو گمراہ کیا ہے اور یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری کا مؤقف

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ پہلی بار ہائی کورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے۔ میرا جرم حلف سے وفاداری بنا دیا گیا ہے۔ میری ڈگری اصلی ہے اور میں امتحان میں بھی بیٹھا تھا۔

انہوں کا کہانا تھا کہ 34 برس بعد جعل سازی کرکے ڈگری کو متنازع بنایا گیا۔ میرے خلاف کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ میں نے کسی کے کہنے پر فیصلے نہیں کیے۔ مجھے کم از کم سماعت کا موقع دیا جائے، پھر چاہے میرے خلاف فیصلہ دیا جائے۔

وکلا کا مؤقف اور عدالتی فیصلہ

فریقین کے وکلا نے کہا کہ پہلے ہمارے اعتراضات کا فیصلہ کیا جائے اور بعد میں قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے۔ اس کے بعد تمام درخواست گزاروں کے وکلا کمرہ چھوڑ کر چلے گئے اور عدالت نے تمام درخواستیں عدم پیروی پر خارج کر دیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں رمضان: ثقافت، روحانیت اور یکجہتی کو سمجھنے کا بہترین موقع

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟