سوشل میڈیا نے تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیا، لوگ صرف ٹرینڈز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جاوید اختر

جمعہ 24 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف بھارتی شاعر، نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں لوگ نئی راہ اختیار کرنے سے گھبراتے ہیں اور اصل تخلیق کے بجائے صرف ٹرینڈز اور وائرل ہونے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جاوید اختر اپنے بارے میں وائرل ویڈیو پر برہم، قانونی کارروائی کی دھمکی

بھارتی جریدے ووگ انڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں جاوید اختر نے کہا کہ سوشل میڈیا، الگورتھمز اور وائرل کلچر نے موسیقی، کہانی نویسی اور تخلیقی سوچ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ وقتی رجحانات کے بجائے مطالعے، غور و فکر اور اصل تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیں۔

جاوید اختر کے مطابق انٹرنیٹ نے ایسے ایکو چیمبرز بنا دیے ہیں جہاں زیادہ تر لوگ کوئی نیا کام کرنے سے ڈرتے ہیں اور جب کوئی دوسرا وہ کام کر لیتا ہے تو پھر سب اسی کی نقل شروع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج لوگ رک کر سوچنا، کسی خیال پر غور کرنا یا اس کا تجزیہ کرنا نہیں چاہتے۔

مزید پڑھیے: بھارتی شاعر جاوید اختر (ڈمی) کی وی ٹو میں انتہائی دلچسپ گفتگو

انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی زندگی میں مصروف ہیں اس لیے انہیں کائنات، فطرت یا زندگی کے بڑے سوالوں پر سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور ان کے نزدیک یہ وقت کا ضیاع ہے۔

اچھی تخلیق صبر اور غور و فکر مانگتی ہے

جاوید اختر کا کہنا تھا کہ حقیقی اور پائیدار تخلیق صرف صبر، بے چینی اور گہرے غور و فکر سے جنم لیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ غالب خیالات اور مقبول نظریات پر سوال اٹھایا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں کہی جانے والی بات اور عملی رویے میں فرق نظر آیا۔

موسیقی میں الفاظ کی اہمیت کم ہو گئی

جاوید اختر نے موجودہ موسیقی کی صنعت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب مارکیٹنگ ٹیمیں یہ طے کرتی ہیں کہ کون سا گانا بنے گا۔

مزید پڑھیں: ’عورت کا بھیس بدل کر طالبان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں کیوں نہیں گئے‘، جاوید اختر کا تنقید کرنے والے کو سخت جواب

ان کا کہنا تھا کہ آج الفاظ کی اہمیت کم ہو گئی ہے کیونکہ مارکیٹنگ ٹیموں کا خیال ہے کہ دھیمے گانے ٹرینڈ نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کا ذوق بدل گیا ہے اور پرانے گانوں کا زمانہ گزر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی لوگ پرانے گانوں کے ابتدائی حصے (مکھڑا) لے کر انہیں کمزور بولوں کے ساتھ ری مکس کر دیتے ہیں۔

جاوید اختر کے مطابق ماضی میں لکھنے والوں کو زیادہ آزادی حاصل تھی، جبکہ آج موسیقی پر دیگر عوامل حاوی ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے کئی دہائیاں پرانے گانے آج بھی زندہ ہیں جبکہ آج کے بہت سے گانے چند ہی دنوں میں بھلا دیے جاتے ہیں۔

پڑھنے کی عادت ختم نہیں ہونی چاہیے

جاوید اختر نے نوجوان لکھنے والوں کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف کلاسیکی ادب ہی نہیں بلکہ ہلکا پھلکا ادب بھی پڑھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: 61 سال پہلے ممبئی آکر بے گھر اور بھوکا رہا، جاوید اختر کا اپنے کیرئر کے بارے میں جذباتی پیغام

انہوں نے کہا کہ اصل نقصان معمولی چیز پڑھنے میں نہیں بلکہ کچھ بھی نہ پڑھنے میں ہے۔

تخلیق صرف تکنیک سے نہیں آتی

جاوید اختر نے کہا کہ ہر فن 2 حصوں پر مشتمل ہوتا ہے اس کے ایک طرف تخیل، جذبہ، رومانس اور تصور ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف فنی مہارت۔

انہوں نے کہا کہ تکنیک تو چند روزہ تربیت سے سیکھی جا سکتی ہے لیکن تخیل، خواب دیکھنے اور خواہش پیدا کرنے کا کوئی کورس نہیں ہوتا۔

خیال کہیں سے بھی آ سکتا ہے

جاوید اختر کے مطابق کسی نظم یا گیت کا خیال کسی سماجی مسئلے، کسی شخصیت، کسی واقعے یا حتیٰ کہ اچھے موسم سے بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’ہندوستانی پیسہ ڈوبے گا‘، سردار جی 3 کی بھارت میں پابندی پر جاوید اختر بھی بول پڑے

انہوں نے کہا کہ وہ لکھنے کے لیے کسی خاص ماحول کے محتاج نہیں۔

جاوید اختر نے کہا کہ میں لوگوں سے بھرے کمرے میں، کسی تقریب میں یا مدھم روشنی میں بھی لکھ سکتا ہوں بس مجھے صرف بغیر لکیروں والا ایک سادہ کاغذ چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب الفاظ اور خیالات دستک دیں تو ان کا استقبال کرنا چاہیے۔

سادہ زبان میں لکھنا سب سے مشکل ہے

انہوں نے اپنے والد کا ایک مشورہ یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ یہ سکھایا کہ مشکل زبان میں لکھنا آسان جبکہ سادہ زبان میں مؤثر انداز سے لکھنا سب سے مشکل کام ہے۔

مزید پڑھیں: جاوید اختر نے ممبئی میں فلیٹ نہ ملنے کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہرا دیا

جاوید اختر کے بقول جب آپ سادہ الفاظ میں لکھتے ہیں تو بڑے بڑے الفاظ کے پیچھے اپنے خیال کو چھپانے کی گنجائش نہیں رہتی اس لیے سادہ زبان وہی استعمال کر سکتا ہے جو اپنے خیال پر مکمل یقین رکھتا ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

کراچی: لی مارکیٹ میں کھدائی کے دوران 2 مجسمے برآمد، ماہرین نے تحقیق شروع کر دی

خیبر پختونخوا میں 27 جولائی تک بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب