ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنا گھر بنا سکے لیکن معاشی حالات کے باعث گھر بنانا ہمیشہ سے ہی ایک مشکل کن فیصلہ رہا ہے جس کی تکمیل کے لیے عزیزواقارب سمیت بینکوں یا دیگر اداروں سے قرض لینے کی نوبت آ ہی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اپنی چھت اپنا گھر اسکیم‘ کے تحت قرضوں کی فراہمی کا حجم بڑھا دیا گیا
حکومت نے اپنا گھر بنانے والے شہریوں کو 20 سے 35 لاکھ روپے تک کے قرض کے حصول میں مدد دینے کے فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں ’میرا گھر، میرا آشیانہ پروگرام‘ کے تحت نئی اسکیم ’مارک اپ سبسڈی اور رسک شیئرنگ اسکیم‘ متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے اب 20 سال تک کے لیے آسان اقساط اور کم مارک اپ پر قرض حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اسکیم کے تحت وہ تمام پاکستانی شہری جو پہلی بار اپنا گھر خریدنا چاہتے ہیں اور جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ہے، قرضہ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے، تاہم درخواست گزار کے نام پر پہلے سے کوئی گھر یا فلیٹ نہیں ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں:’احساس اپنا گھر اسکیم‘ پر باقاعدہ عملدرآمد کا آغاز، بلاسود قرضوں کی فراہمی شروع
یہ قرض نیا گھریا فلیٹ خریدنے کے لیے، یا پہلے سے موجود پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے کے لیے یا پھر پلاٹ خریدنے اور اس پر گھر تعمیر کرنے کے لیے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے گھروں یا فلیٹس کے لیے قرضہ دیا جائے گا جن کا رقبہ زیادہ سے زیادہ 5 مرلہ یا 1360 اسکوائر فٹ ہو۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس اسکیم کے تحت قرض کو 2 درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے 20 لاکھ روپے تک اور پھر 20 لاکھ روپے سے زائد اور زیادہ سے زیادہ 35 لاکھ 50 ہزار روپے تک کا قرض دیا جائے گا۔

قرض کی مدت زیادہ سے زیادہ 20 سال ہوگی جبکہ ابتدائی 10 سال تک سبسڈی دی جائے گی جبکہ اس قرض کی پروسیسنگ فیس یا پری پیمنٹ پینالٹی نہیں لی جائے گی، اس قرض پر مارک اپ کائی بور + 3 فیصد لیا جائے گا اور اس شرط پر قرض دیا جائے گا کہ 90 فیصد قرض، 10 فیصد خود کا سرمایہ ہو۔
مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا حکومت کا احساس گھر پروگرام، قرضہ کے حصول کی شرائط کیا ہیں؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس اسکیم کی تفصیلات کے حوالے سے سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام کمرشل، اسلامی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی برانچ نیٹ ورک اور دیگر ذرائع کے ذریعے اس اسکیم کو فروغ دیں اور لوگوں کو قرض کی فراہمی آسانی بنائیں۔














