انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2025 سے تخمینی مارکیٹ ویلیو کا خانہ ختم

ہفتہ 27 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2025 سے تخمینی مارکیٹ ویلیو (Estimated Market Value) کا خانہ ختم کر دیا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کے لیے فارم بھرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیکس دہندگان دستاویزی ثبوت دیے بغیر اثاثے ظاہر کرسکتے ہیں، ایف بی آر

ایف بی آر کے مطابق یہ خانہ صرف اقتصادی سروے کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے مقصد سے شامل کیا گیا تھا اور اس کا ٹیکس دہندگان کی آمدنی یا ٹیکس ذمہ داری سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں وزیر برائے پیٹرولیم، وزیرِ مملکت برائے خزانہ، اٹارنی جنرل، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور ممبر کسٹمز ایف بی آر شامل تھے۔

کمیٹی کا کام یہ تھا کہ IRIS ٹیکس ریٹرن میں شامل اس نئے خانے کا جائزہ لے اور ٹیکس دہندگان پر اس کے اثرات کو دیکھتے ہوئے بہتری یا اصلاحات کی سفارش کرے۔

کمیٹی نے 26 ستمبر کو منعقدہ اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد سفارش کی کہ ٹیکس ریٹرن میں شامل تخمینی مارکیٹ ویلیو کا خانہ ختم کیا جائے، جسے وزیرِ اعظم نے منظور کر لیا۔

شہریوں میں تشویش کی لہر

قبل ازیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشواروں میں نیا کالم شامل کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کے لیے اپنے اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی قراردے دیا تھا جس کے باعث  شہریوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2025 میں کوئی نئی ترمیم نہیں کی گئی، ایف بی آر

مذکورہ کالم کے اضافے کی وجہ سے خصوصاً وہ سفید پوش افراد زیادہ پریشانی کا شکار تھے جن کے پاس قیمتی وراثتی اثاثے تو موجود ہیں لیکن ان کی اپنی آمدنی محدود ہے۔

اس حوالے سے اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف-6 میں رہائش پذیر محمد زبیر نے وی نیوز کو بتایا کہ ان کا گھر 2 کنال کا ہے جس کی مارکیٹ ویلیو اس وقت تقریباً ڈیڑھ ارب روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ہر سال پابندی سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتا ہوں تاہم میرے وکیل نے بتایا کہ اس مرتبہ سے ایف بی آر نے  اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنے کی شرط بھی عائد کردی ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ یہ گھر میرے والد مرحوم ایک ریٹائرڈ سیکریٹری تھے اور انہوں نے سنہ 1982 میں یہ گھر تعمیر کروایا تھا جبکہ میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں اور میری آمدنی اتنی نہیں کہ اس مالیت کے حساب سے ٹیکس ادا کر سکوں۔

مزید پڑھیے: نئے ٹیکس قوانین: کیا پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس چھوٹ حاصل ہوگی؟

ان کا کہنا تھا کہ یہ گھر ہمیں وراثت میں ملا اور ہمیں پیارا بھی ہے لیکن اس کی بڑھتی قیمت میرے لیے وبال بن گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورت حال سے نہ صرف وہ خود بلکہ ان جیسے کئی شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں جو قیمتی وراثتی گھروں کے تو مالک ہیں لیکن ان کی آمدنی محدود ہے۔

محمد زبیر کہتے ہیں کہ مجبوری یہ ہے کہ یہ گھر ہمیں وراثت میں ملا ہے اور اس سے ایسی انسیت ہے کہ اسے فروخت بھی نہیں کرسکتے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 26-2025: آن لائن کاروبار اور امپورٹڈ اشیا پر نئے ٹیکسز سے چھوٹے تاجر پریشان

ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے میں نئے کالم سے متعلق وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نئے کالم کا مقصد صرف مستند ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے جبکہ نیا کالم 18 اگست کو شامل کیا گیا ہے اور اس میں اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو کے سالانہ اضافے کی تفصیلات دینی ہوں گی۔

اس کالم کے لیے کوئی نیا ایس آر او جاری نہیں کیا گیا جبکہ اس کالم کا انکم ٹیکس کے تعین سے کوئی تعلق نہیں اثاثوں کی مالیت ظاہر کرنے سے کسی ٹیکس دہندہ کے خلاف اس بنیاد پر کارروائی نہیں ہو گی جبکہ جو افراد اس سال کے گوشوارے پہلے ہی جمع کر چکے ہیں انہیں دوبارہ جمع کروانے ہوں گے۔

ایف بی آر نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنے کا عمل صرف ڈیٹا کے تجزیے اور شفافیت کے لیے ہے اور اس سے براہ راست ٹیکس بوجھ میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی، ایف بی آر نے گوشواروں کا نیا فارم جاری کیا

ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ اقدام لوگوں کے لیے الجھن پیدا کر رہا ہے لیکن اگر ایف بی آر اپنی وضاحت پر قائم رہا تو ٹیکس دہندگان کے لیے یہ اقدام محض ایک ریگولیٹری تقاضا ہوگا نہ کہ ٹیکس بڑھنے کا سبب۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟