مغربی کنارے میں کارروائی کے بعد اسرائیلی طیاروں کی غزہ پر بھی بمباری

ہفتہ 28 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی شہادت کے بعد اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر بھی بمباری کردی۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جمعے کی شب غزہ کے مختلف مقامات پر بمباری کی، اسرائیلی طیاروں نے مہاجر کیمپ کو بھی نشانہ بنایا۔

مقامی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے 2 گھنٹوں میں 10 سے زائد میزائل فائرکیے تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے جنین کیمپ پر حملہ کیا تھا اور خاتون سمیت 10 فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔

یکم جنوری سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 30 ہوگئی۔

اردن، قطراورسعودی عرب نے جنین کیمپ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے جبکہ امریکا، اقوام متحدہ اور عرب حکام نے کشیدہ صورتحال میں کمی کیلئے اسرائیل اور فلسطینی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، چین اور فرانس نے صورتحال پر آج سلامتی کونسل کا بند کمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اُدھر فلسطینی حکام نے اسرائیل کے ساتھ اپنا سکیورٹی تعاون ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے