امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن نوبیل انعام 2025 سے محروم: ’اب دنیا میں امن کی کوششوں کا کیا ہوگا؟‘

جمعہ 10 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2025 کا نوبیل امن انعام حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے۔ متعدد ممالک، بشمول پاکستان، نے انہیں اس عالمی اعزاز کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم نوبیل کمیٹی نے اس سال کا امن انعام وینزویلا کی معروف جمہوری رہنما ماریا کورینا مچاڈو کو دینے کا فیصلہ کیا جو اپنے ملک میں آمریت کے خلاف جمہوریت، انسانی حقوق اور پرامن سیاسی جدوجہد کی علامت بن چکی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس انعام کے لیے پرامید تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے یہ انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہو گی۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صحافی اجمل جامی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے طنزاً لکھا کہ جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کہ سو جا، استاد ٹرمپ کے نام۔

سینئر صحافی اور اینکر حامد میر نے کہا کہ ماریہ نے متعدد دھمکیوں کے باوجود اپنا ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ جمہوریت اُن لوگوں پر انحصار کرتی ہے جو خاموش رہنے سے انکار کرتے ہیں، جو شدید خطرات کے باوجود آگے بڑھنے کی جرأت دکھاتے ہیں، اور جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آزادی کو کبھی بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے ہمیشہ الفاظ، حوصلے اور عزم کے ساتھ بچانا اور قائم رکھنا چاہیے۔

خرم اقبال نے لکھا کہ ہم نے بھی نامزد کیا تھا، لیکن ٹرمپ امن کے نوبیل انعام کے حقدار نہیں ٹھہرے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ پاکستان، اسرائیل اور کمبوڈیا کا ڈونلڈ ٹرمپ کو نامزد کرنا بھی کام نہ آیا۔ وینزویلا کی خاتون کو نوبیل امن انعام مل گیا۔

ایک صارف نے طنزاً لکھا کہ اگر ماریا کورینا ماچادو وزٹ ویزا کی درخواست دیتی ہیں تو ٹرمپ اُن پر 20 لاکھ ڈالر فیس لاگو کر سکتے ہیں۔

بشارت راجہ لکھتے ہیں کہ بالآخر نوبیل کمیٹی نے امن انعام ایک وینزویلائی خاتون کے حوالے کر دیا۔ یوں پاکستان، اسرائیل اور کمبوڈیا کی طرف سے ٹرمپ کے لیے کی جانے والی اجتماعی دعائیں، التجائیں اور نامزدگیاں سب ’عالمی امن‘ کی طرح بےاثر ثابت ہوئیں۔

اویس منگل والا نے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دل ٹوٹ گیا۔ امن کا نوبیل انعام نہ ملا۔ اب دنیا میں امن کی کوششوں کا کیا ہوگا؟ غزہ امن معاہدے کا کیا ہوگا؟

واضح رہے کہ اس سال نوبیل امن انعام کے لیے 300 سے زائد افراد اور تنظیموں کو نامزد کیا گیا تھا۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ایک مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا تھا، لیکن وہ امن انعام حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟