غزہ میں امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے بعد فلسطینی شہریوں نے اپنے گھروں کو واپسی شروع کر دی ہے۔ درجنوں افراد غزہ کی ساحلی سڑک ‘الرشید اسٹریٹ’ کے راستے شہر میں داخل ہوتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ بندی دوپہر 12 بجے (مقامی وقت) نافذ ہوئی، جس سے قبل اسرائیلی کابینہ نے جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلے کی منظوری دی۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ میں جنگ بندی نافذ، اسرائیلی افواج پیچھے ہٹ گئیں، شہریوں کا جشن
فوجی انخلا
امریکا اور اسرائیل کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ کے بعض علاقوں سے انخلا کے پہلے مرحلے کو مکمل کر لیا ہے۔ تاہم فلسطینیوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ چند مخصوص علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
قیدیوں کا تبادلہ
اسرائیلی وزارتِ انصاف نے 250 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کر دی ہے جنہیں حماس کے قبضے میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے رہا کیا جائے گا۔ تاہم فہرست میں ان متعدد فلسطینی مزاحمتی رہنماؤں کے نام شامل نہیں ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ حماس نے کیا تھا۔

ٹرمپ کا مجوزہ دورہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جلد اسرائیل کے ہنگامی دورے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں اسرائیلی پارلیمنٹ ‘کنیسٹ’ سے خطاب کی دعوت دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا کہ وہ ممکنہ طور پر مصر بھی جائیں گے، جہاں جنگ بندی کے معاہدے پر باضابطہ دستخط ہونے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا غزہ میں جنگ بندی دیرپا ثابت ہوگی؟ خدشات،اثرات، مضمرات
ان کا کہنا تھا کہ وہ شاید اس وقت خطے میں موجود ہوں گے جب غزہ میں باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔
عالمی ردعمل
یورپی ممالک کے رہنماؤں فرانس کے صدر ایمانویل میکرون، جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرٹس اور برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر، نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں امداد کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصر اور قطر کے کردار کو بھی سراہا جنہوں نے اس جنگ بندی کے معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔










