گینگسٹر طیفی بٹ کون تھا، ساتھیوں کی فائرنگ سے کیسے ہلاک ہوا ؟

ہفتہ 11 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ لاہور کے علاقے گوالمنڈی سے تعلق رکھنے والا بدنام زمانہ گینگسٹر تھا۔ اس کا نام شہر کی انڈر ورلڈ میں 3 دہائیوں سے جاری خاندانی دشمنیوں، قتل و غارت اور لینڈ گرابنگ کی جنگوں سے جڑا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:دبئی سے گرفتار گینگسٹر طیفی بٹ پولیس حراست میں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

طیفی بٹ، خواجہ عقیل عرف گوگی بٹ کا چھوٹا بھائی تھا۔ دونوں بھائی خود کو لاہور کے ’مشہور تاجر‘ قرار دیتے تھے، تاہم ان پر سنگین جرائم کے درجنوں مقدمات درج تھے۔

دشمنی کی جڑیں: بِلا ٹرکاں والا کیس

بٹ خاندان کی پرانی دشمنی امیرالدین عرف بِلا ٹرکاں والا کے خاندان سے تھی۔ 1994 میں بِلا کے قتل کے بعد دشمنی نے سنگین رخ اختیار کیا۔

بِلا کے بیٹے امیر عارف عرف ٹیپو ٹرکاں والا نے بدلہ لینے کا اعلان کیا، اور یوں بٹ گروپ اور ٹیپو گروپ کے درمیان ایک طویل گینگ وار شروع ہوئی۔

طیفی اور گوگی بٹ پر 2010 میں ٹیپو کے لاہور ایئرپورٹ پر قتل کا الزام لگا۔

طیفی اور گوگی بٹ پر 2010 میں ٹیپو کے لاہور ایئرپورٹ پر قتل کا الزام لگا، جو مبینہ طور پر بدلے کی کارروائی تھی۔

انڈر ورلڈ میں عروج اور ’پیسہ کما کر قتل‘ کا ماڈل

طیفی بٹ نے دیگر چھوٹے گروپوں جیسے بھولا سنیارا اور ہمایوں گجر گروپ کو اپنے ساتھ ملا کر ایک مضبوط نیٹ ورک بنایا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق اس نے 2000 کی دہائی میں زمینوں پر قبضے، منشیات کی اسمگلنگ اور سیاسی سرپرستی کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط کی۔

یہ بھی پڑھیں:بالاج ٹیپو قتل کیس میں گوگی بٹ ذمہ دار قرار، جے آئی ٹی ذرائع

اس پر 16 قتل کے مقدمات درج تھے جن میں سے 15 میں وہ بری ہوا، جبکہ ایک اہم مقدمہ، امیر بالاج قتل کیس زیرِ سماعت تھا۔

امیر بالاج قتل کیس اور دبئی فرار

2024 چمیں احسن شاہ کے ذریعے معلومات حاصل کر کے امیر بالاج ٹیپو کے قتل میں طیفی بٹ مرکزی کردار کے طور پر سامنے آیا۔

قتل کے بعد وہ کراچی سے دبئی فرار ہو گیا۔ انٹرپول کی مدد سے دبئی پولیس نے ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا۔

10  اکتوبر 2025 کو طیفی بٹ کو پاکستان لایا گیا اور عدالت نے اسے پولیس کسٹڈی میں دے دیا۔

فائرنگ کا واقعہ اور پراسرار ہلاکت

پولیس کے مطابق رحیم یار خان کے نواحی علاقے احمد پور لمہ میں دورانِ تفتیش طیفی بٹ کو لاہور منتقل کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران اس کے اپنے ساتھیوں نے پولیس وین پر حملہ کیا۔

حملے میں 2 حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے جبکہ طیفی بٹ گولی لگنے سے موقع پر ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے لاش تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خاندانی ردِعمل اور الزامات

طیفی بٹ کے بھائی گوگی بٹ نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے میں ایک تاجر ہوں، قاتل نہیں۔ یہ جے آئی ٹی رپورٹ جانبدارانہ ہے، بالاج کے خلاف بھی کئی ایف آئی آرز درج تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:طیفی بٹ کے بہنوئی کو قتل کرنے والے ملزمان گرفتار، سنسنی خیز انکشافات

گوگی بٹ نے یوٹیوب انٹرویوز میں کہا کہ حکومت اور پولیس نے ان کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا، اور طیفی بٹ کی موت کو ’منصوبہ بند کارروائی‘ قرار دیا۔

پولیس مؤقف

پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق، طیفی بٹ کے خلاف کارروائی مکمل طور پر قانون کے مطابق کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملک گیر سرچ، سویپ اور کومبنگ آپریشنز  کا حصہ تھا، جس میں کئی خطرناک مجرمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

ترجمان کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور واقعے میں ملوث حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

افغانستان کے بعد ایرانی سرحد پر راہداری نظام ختم کرنے کا فیصلہ، کاروباری طبقے پر ممکنہ اثرات پر تشویش

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی حکومت کو زیادہ وقت دے رہے ہیں یا پارٹی کو؟

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ