دبئی سے گرفتار گینگسٹر طیفی بٹ پولیس حراست میں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ہفتہ 11 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے معروف گینگسٹر طیفی بٹ پولیس حراست میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، پولیس نے طیفی بٹ کو امیر بالاج قتل کیس میں تفتیش کے لیے دبئی سے گرفتار کر کے پاکستان منتقل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: طیفی بٹ کے بہنوئی کو قتل کرنے والے ملزمان گرفتار، سنسنی خیز انکشافات

رپورٹس کے مطابق، طیفی بٹ کو تفتیش کے سلسلے میں لاہور لایا جا رہا تھا کہ رحیم یار خان کے نواحی علاقے احمدپور لمہ روڈ پر 2 مسلح حملہ آوروں نے پولیس وین پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں طیفی بٹ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: لاہور، طیفی بٹ کے بہنوئی کو قتل کرنے والے شوٹر کی تصاویر سامنے آگئیں

رپورٹس کے مطابق، طیفی بٹ کا اصل نام خواجہ تعریف گلشن تھا اور وہ لاہور کے ایک معروف گینگ نیٹ ورک سے تعلق رکھتا تھا۔

وہ گزشتہ کئی برسوں سے قبضہ مافیا، بھتہ خوری اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

 ایلون مسک کو بڑا سیاسی دھچکا، 47 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ری پبلکن امیدوار ہار گئے

امریکا میں ترقی پسند سیاست کا نیا دور شروع ہوگیا، میئر نیویارک کا دعویٰ

شکست کی ساری ذمہ داری مجھ پر کیوں؟ پاکستان کے فٹ کھلاڑی بھی بھارت کے خلاف 120 رنز نہ کرسکے، اعظم خان

ناسا کی دوربین کا غیر متوقع اختتام، خلائی ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا