مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ جی پی ٹی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کے سی ای او سیم آلٹ مین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے قانون سازی اور اس کی حدود کا تعین لازمی ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں امریکا، یورپ اور دیگر ممالک کے حکمران اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی کے خالق سیم آلٹ مین امریکی سینٹ کی ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، مختلف عوامی نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو قابو کرنے کے لیے جامع قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔
سیم آلٹ مین نے کہا کہ میں دنیا بھر کے ممالک میں جا کر اس کے حدود سے متعلق قانون سازی پر بات چیت کرنا چاہتا ہوں۔ تیزی سے پھیلتی ہوئی مصنوعی ذہانت کے خدشات اور خطرات کو نوٹ کرتے ہوئے مناسب اقدامات کی ضرورت ہے۔
’اگر اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال شروع ہو گیا تو معاشرے پر غلط اثرات مرتب ہو جائیں گے جسے کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔‘
اوپن اے آئی کمپنی کے سی ای او نے ضابطہ کاری اور قانون سازی کے بعد ہی اے آئی کے لائسینس دینے کا مشورہ بھی دیا۔ سیم نے کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ قانون سازی اور اخلاقی حدود کی سختی سے پابندی بھی کریں۔
امریکی سینیٹ میں پیشی کے دوران چیٹ جی پی ٹی سافٹ ویئر کے غلط استعمال سے متعلق کئی خدشات کو سامنے رکھا گیا جیسے کہ بچوں میں نقل کرنے اور چھاپہ مارنے کا رحجان، جعلی خبروں کا پھیلاؤ، ملازمتوں کے خاتمے اور کاپی رائٹ حقوق کی خلاف ورزی سمیت کئی خدشات کو مدنظر رکھا گیا۔
مزید پڑھیں
مصنوعی ذہانت پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اے آئی پر قانون سازی میں سستی دکھا رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یورپ کافی دلچسپی دکھا رہا ہے اور ان سرگرمیوں کے حوالے سے یورپ کی کافی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔
سینیٹ کمیٹی میں پیشی کے دوران سینیٹررچرڈ بلیومینتھل نے سیم آلٹ مین کو ہوبہو اپنی آواز میں نشر کی گئی ایک جعلی گفتگو سنائی جو سینیٹ میں ان کی بحث پر مبنی تھی۔ رچرڈ نے کہا کہ جس کو نہیں پتا سینیٹ میں کیا بات ہوئی اس کو میری یہ گفتگو 100فیصد ٹھیک لگے گی جبکہ میں نے ایسی کوئی بات کی ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اے آئی کو اس طرح آزاد ماحول میں نہیں چھوڑ سکتے کچھ نہ کچھ حل نکالنا ضروری ہے۔‘
سیم آلٹ مین نے یہ اعتراف بھی کیا کہ مصنوعی ذہانت دیگر خطرناک مسائل کے ساتھ ساتھ عوامی رائے سازی یعنی انتخابات کے عمل پربھی اثرانداز ہوسکتی ہے، یہ رجحان کافی تشویشناک ہے۔




















