خیبرپختونخوا: نئے وزیراعلیٰ کے لیے 4 امیدوار میدان میں آگئے، علی امین کا استعفیٰ منظور نہ ہونا بھی معمہ

اتوار 12 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل مکمل ہوگیا، جہاں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام (ف) کے امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے، جنہیں منظور کرلیا گیا۔

مقررہ وقت ختم ہونے تک چاروں جماعتوں کے امیدواروں نے باقاعدہ طور پر کاغذات سیکریٹری خیبرپختونخوا اسمبلی کے پاس جمع کرائے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے انتخاب میں باہر سے کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے، نامزد اُمیدوار سہیل آفریدی

تحریک انصاف کی نمائندگی سہیل آفریدی، مسلم لیگ (ن) کی سردار شاہ جہاں یوسف، جے یو آئی (ف) کی مولانا لطف الرحمان اور پیپلز پارٹی کی ارباب زرک نے کی۔

اے این پی کا انتخابی عمل میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے انتخابی عمل میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان انجینیئر احسان اللہ نے واضح کیاکہ اے این پی نہ تو کسی ہارس ٹریڈنگ کا حصہ بنے گی اور نہ ہی پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی کی حمایت کرے گی۔

اسی دوران وزیراعلیٰ کے استعفے کی منظوری سے متعلق معاملہ ایک نئے تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ جب تک گورنر علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور نہیں کرتے، نیا وزیراعلیٰ منتخب کرنے کا عمل آئینی طور پر مشکوک رہے گا۔

اپوزیشن اپنا امیدوار لانے کے جمہوری حق سے پیچھے نہیں ہٹے گی، مولانا لطف الرحمان

جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی لیڈر اور وزیراعلیٰ کے امیدوار مولانا لطف الرحمان کا کہنا ہے کہ گورنر کی جانب سے استعفیٰ منظور نہ کیے جانے کے باوجود اپوزیشن اپنا امیدوار لانے کے جمہوری حق سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

دوسری طرف وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام نے مؤقف اختیار کیاکہ گورنر نے استعفیٰ وصول کرلیا ہے اور اسے آئینی تقاضوں کے مطابق پراسس کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس معاملے کو خود متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک وزیراعلیٰ کے استعفے کا عمل مکمل نہیں ہوا تو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا قانونی جواز بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’دہشتگرد تنظیموں سے تعلقات‘، سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ نامزدگی پر ہنگامہ

پشاور میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے بعد حکومتی نامزد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی پالیسی پارٹی چیئرمین کی ہدایت کے مطابق ہے اور وہ اپنا پالیسی بیان صوبائی اسمبلی کے فلور پر پیش کریں گے۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کا انتخاب آئین کے مطابق ہو رہا ہے، اس عمل میں باہر سے کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت: وارانسی ایئرپورٹ پر مسافر کی پستول چل گئی، 2 سیکیورٹی اہلکار زخمی

ٹرمپ کا ایران سے ڈیل کے لیے خفیہ رابطہ، پاسداران انقلاب کو براہِ راست پیغام پہنچایا گیا، فوکس نیوز کا دعویٰ

معروف دوا صرف ایک بیماری تک محدود نہیں، تحقیق میں حیران کن طبی فائدہ سامنے آگیا

نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، ہم مطالبہ نہیں بلکہ تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

اسلام ماخا چیف کی ’یو ایف سی‘ فائٹ میں مسلسل 17 ویں فتح، نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کردیا

ایران کا ہرمز کھولنے سے قبل امریکا سے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

کالم / تجزیہ

انکار کا اعزاز

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں