پاکستان کے جانب سے افغانستان کے علاقے پکتیکا میں دہشتگردوں کیخلاف کی جانے والی کامیاب کارروائی کو چھپانے کے لیے افغان عبوری حکومت کی جانب سے پاکستانی حملے میں افغان کرکٹرز کی جھوٹی کہانی کا پردہ فاش ہو گیا۔
کرکٹ کا کوئی ریکارڈ یا اسٹیڈیم موجود نہیں
صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر واقعی یہ افراد ’کھلاڑی‘ تھے تو پھر وہ ایک ایسی ممنوعہ تنظیم کے زیر قبضہ علاقے میں، گولہ بارود کے ذخائر کے درمیان کیوں مقیم تھے؟
The Taliban is literally saying this cricket player was killed in the strike on TTP’s Gul Bahadur camp—it’s a miracle that even dead he’s posting propaganda on the same strike. You can’t make this up! https://t.co/lexkqmT0CG
— Sarah Adams (@TPASarah) October 18, 2025
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہاں نہ کوئی کرکٹ اسٹیڈیم تھا، نہ کلب، اور نہ ہی افغان کرکٹ بورڈ کے ریکارڈ میں ان علاقوں کے 100کلومیٹر کے اندر کسی میچ کا ذکر موجود ہے۔
پرانی چال، دہشت گردوں کو شہری ظاہر کرنا
یہ غلط بیانی کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ وہی پرانا پروپیگنڈا طریقہ کار اپنایا گیا جو پاکستان کی درست کارروائیوں کے بعد بارہا دہرایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک فضائیہ کے آپریشن میں 3 افغان کرکٹرز سمیت 8 ہلاک، کابل نے سہ ملکی سیریز سے دستبرداری کا اعلان کر دیا
اس طریقے کے تحت مارے گئے دہشتگردوں کو عام شہری ظاہر کیا جاتا ہے، پرانے یا غیر متعلقہ طلبہ یا کھلاڑیوں کی تصاویر پھیلائی جاتی ہیں، سوشل میڈیا پر جذباتی ہیش ٹیگز کے ذریعے ہمدردی پیدا کی جاتی ہے، اور طالبان نواز میڈیا چینلز و بھارتی ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردوں کے اڈوں کو انسانی المیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
حقیقت، حافظ گل بہادر گروپ کی حفاظت کی کوشش
درحقیقت اس منظم مہم کے پیچھے ایک ہی مقصد کارفرما ہے، حافظ گل بہادر نیٹ ورک اور اس کے طالبان سرپرستوں کو ذمہ داری سے بچانا۔ پاکستان کی کارروائی کے حقائق بالکل واضح ہیں۔

خوست اور پکتیکا میں نشانہ بنائے گئے ٹھکانے ٹی ٹی پی سے وابستہ حافظ گل بہادر گروپ کے تھے، کسی کرکٹ ٹیم کے نہیں۔ افغان حکام کے ’کرکٹرز ہلاک‘ کے دعوے بے بنیاد ہیں کیونکہ ان علاقوں میں نہ کوئی میچ ہوا، نہ ہی افغان کرکٹ بورڈ کے پاس کسی سرگرمی کا ریکارڈ موجود ہے۔ طالبان کیمپوں میں اسلحے کے ذخائر کے درمیان موجود افراد کرکٹر نہیں بلکہ تربیت یافتہ جنگجو تھے۔
قانونی انسدادِ دہشتگردی کارروائی
یہ ایک قانونی انسدادِ دہشتگردی کارروائی تھی جس کا ہدف وہی ٹی ٹی پی سے وابستہ عسکریت پسند تھے جنہوں نے شمالی وزیرستان میں خودکش حملہ کیا تھا۔
ان مارے گئے دہشتگردوں کو ’کھلاڑی‘ کہنا طالبان کی دانستہ کوشش ہے تاکہ اپنے پراکسی عناصر کے نقصان کو چھپایا جا سکے اور پاکستان کے دفاعی اقدام کو مسخ کیا جا سکے۔
پروپیگنڈا مہم کا انکشاف
جس نام نہاد ’کرکٹ کیمپ‘ کی بات کی گئی، وہ دراصل خوست اور پکتیکا کا وہی جنگجو گزرگاہ علاقہ تھا جو طویل عرصے سے حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، کوئی کھیل کا میدان نہیں۔ پروپیگنڈا مہم طالبان کے میڈیا سیل اور بھارتی نیٹ ورکس کے ذریعے چلائی گئی تاکہ مارے گئے دہشت گردوں کو بے گناہ کھلاڑیوں کے طور پر پیش کیا جا سکے، جو ایک کلاسیکی غلط معلوماتی حربہ ہے۔
پرانی تصاویر، جھوٹا بیانیہ بے نقاب
افغان اکاؤنٹس کی جانب سے شیئر کی جانے والی تمام تصاویر پرانی یا غیر متعلقہ ثابت ہوئیں، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ’کرکٹرز‘ والی کہانی محض ایک ڈیجیٹل فریب تھی جو دہشتگردوں کی شکست پر پردہ ڈالنے کے لیے گھڑی گئی۔
طالبان کی جانب سے حافظ گل بہادر گروپ کے جنگجوؤں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ’کرکٹر‘ کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب بھی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو افغانستان میں پناہ دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ افغان کرکٹ بورڈ نے دعویٰ کیا ہے پکتیکا میں پاکستان ایئر فورس کے کی کارروائی میں 3 افغان کرکٹرز سمیت کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کے مطابق ہلاک ہونے والے کھلاڑیوں کی شناخت کبیر، صبغت اللہ اور ہارون کے نام سے ہوئی ہے۔













