امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے منشیات اسمگل کرنے والی ایک آبدوز کو تباہ کر دیا ہے جو کیریبین سمندر میں امریکا کی جانب رواں دواں تھی۔
کارروائی میں 2 مشتبہ اسمگلر ہلاک جبکہ 2 کو گرفتار کر کے ان کے ممالک ایکواڈور اور کولمبیا واپس بھیج دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: منشیات فروشوں سے ضبط سونا غزہ کی تعمیر نو کے لیے بھیجا جائے گا، کولمبیا
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ایک بڑی منشیات بردار آبدوز کو تباہ کیا گیا جو فینٹانائل اور دیگر منشیات سے بھری ہوئی تھی۔ 2 دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو کو ان کے ممالک واپس بھیجا جا رہا ہے۔ اگر آبدوز امریکا پہنچ جاتی تو 25000 امریکی (منشیات سے) مر جاتے۔

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے تصدیق کی کہ کولمبیائی شہری کو زندہ حالت میں وطن واپس لایا گیا ہے اور اس پر قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔ یہ حملہ امریکی افواج کی اس نئی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد لاطینی امریکا سے امریکا تک منشیات کی ترسیل روکنا ہے۔ ستمبر سے اب تک کم از کم 6 کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں سے بعض کی روانگی وینیزویلا سے بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کا کیریبین سمندر میں چوتھا فضائی حملہ، 4 مبینہ منشیات فروش ہلاک
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں، تاہم اب تک اس بات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد منشیات فروش تھے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی ہلاکتیں غیر قانونی ہیں، چاہے نشانہ بننے والے واقعی اسمگلر ہی کیوں نہ ہوں۔
امریکی حکام نے مذکورہ آبدوز کے روانگی کے مقام کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم ماہرین کے مطابق ایسے نیم آبدوزی جہاز عام طور پر جنوبی امریکا خصوصاً کولمبیا کے جنگلات میں تیار کیے جاتے ہیں اور منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔













