اسرائیلی فوج کا غزہ پر نیا حملہ، جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی

اتوار 19 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی فوج نے غزہ پر نیا حملہ کیا، جس سے امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے پائیدار امن میں بدلنے کی امیدیں مدھم ہو گئیں،اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگا رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا اور مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر اتوار کے روز کیے گئے یہ حملے 11 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد اب تک کا سب سے بڑا امتحان بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید

عینی شاہدین کے مطابق جنوبی غزہ کے علاقے رفح اور خان یونس میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ اباسن کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

خان یونس کے رہائشیوں نے بتایا کہ اتوار کی دوپہر کے وقت اسرائیلی فضائیہ نے رفح پر متعدد فضائی حملے کیے۔ جب اسرائیلی حکومت کے ترجمان سے ان حملوں کی تصدیق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے معاملہ فوج کے سپرد کر دیا، تاہم فوج کی جانب سے کوئی فوری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

شمالی غزہ میں فضائی حملہ، 2 فلسطینی جاں بحق

مقامی محکمہ صحت کے مطابق اتوار کے روز شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فوج نے رفح کے علاقے میں فضائی کارروائیاں اس وقت شروع کیں جب وہاں جنگجوؤں نے اسرائیلی افواج پر حملہ کیا۔ تاہم رپورٹ میں کسی مخصوص ماخذ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے تصدیق کی کہ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی دستوں پر راکٹ لانچر اور سنائپر حملے کیے، جو اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں ہوئے۔ عہدیدار کے مطابق یہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم، دیر پا امن کے لیے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ

دوسری جانب حماس کے سینئر رہنما عزت الرشق نے کہا کہ حماس جنگ بندی کے معاہدے کی پابند ہے، اور اس کی خلاف ورزی اسرائیل کر رہا ہے۔

غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک 47 خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں 38 افراد ہلاک اور 143 زخمی ہوئے۔ ان خلاف ورزیوں میں شہریوں پر براہِ راست فائرنگ، گولہ باری، نشانہ بندی کے حملے اور گرفتاریوں کے واقعات شامل ہیں۔

رفح کراسنگ غیر معینہ مدت تک بند

اسرائیل اور حماس کئی دنوں سے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ آئندہ اطلاع تک بند رہے گی۔

رفح کراسنگ مئی 2024 سے زیادہ تر بند ہے۔ جنگ بندی معاہدے میں غزہ کے لیے امداد میں اضافہ بھی شامل ہے، جہاں لاکھوں افراد قحط کی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ بندی کے ایک روز بعد ہی اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

اسرائیل اور حماس کے درمیان تاحال یرغمالیوں کی باقی ماندہ لاشوں کی واپسی پر بھی تنازع برقرار ہے۔ اسرائیل کے مطابق حماس کو 28 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنی ہیں۔ اب تک حماس 20 زندہ یرغمالیوں اور 12 لاشوں کی حوالگی کر چکی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ باقی لاشیں ملبے تلے دبی ہیں جن کی بازیابی کے لیے خصوصی آلات اور وقت درکار ہے۔

ادھر امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے راستے میں بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں، جن میں حماس کا غیر مسلح ہونا، غزہ کی آئندہ حکومت، ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل، اور فلسطینی ریاست کے قیام جیسے امور شامل ہیں۔

امریکی سفارتخانے نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے تمام سوالات امریکی محکمہ خارجہ کو بھیج دیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی اور حبس برقرار، بالائی علاقوں میں بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان

مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں ایران کو آنے والے بحری جہازوں پر کنٹرول مل سکتا ہے، رائٹرز

وزیراعظم شہباز شریف آج 2 روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے

اسحاق ڈار کی اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے