وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کوشش کرکے دیکھ لے اس بار اسلام آباد نہیں آ سکتی، ایسی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف اس بار اٹک پل بھی کراس نہیں کر سکے گی، پچھلی بار جو خامیاں رہ گئی تھیں اس بار دور کرلی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے جھنڈے کی جگہ پی ٹی آئی کا جھنڈا، نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی تنقید کی زد میں
انہوں نے کہاکہ عمران خان انتظار کررہے تھے کہ ملک میں انارکی پھیلے اور افراتفری ہو لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بات چیت کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے لیکن پی ٹی آئی اس کے لیے سنجیدہ ہی نہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ پی ٹی آئی کی قیادت اگر عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتی ہے تو اس پر ہم سے براہ راست بات چیت کی جائے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو اس بار ڈی چوک تو دور کی بات، اسلام آباد کی حدود میں بھی نہیں آنے دیا جائےگا۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر انہیں عمران خان سے ملاقات نہ کرنے دی گئی تو وہ عوامی تحریک شروع کردیں گے۔
قبل ازیں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ طرز عمل اور بیانات پر اٹھنے والے شکوک و شبہات بلاجواز نہیں ہیں، کیونکہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے پی ٹی آئی کے دستے کی قیادت خود سہیل آفریدی کر چکے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ اسلام آباد پر حملہ آور گروہ کی سربراہی کے شواہد موجود ہیں اور اسی بنیاد پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر سوالات اٹھائے گئے۔
ان کے بقول سہیل آفریدی نے اپنی تقاریر میں آئین یا قانون کی کسی شق کا حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی اب تک صوبے کی ترقی یا عوامی فلاح کے حوالے سے کوئی جامع منصوبہ پیش کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی خود اسلام آباد پر چڑھائی کرچکے، ان پر شکوک و شبہات بلاجواز نہیں، رانا ثنااللہ
رانا ثنااللہ نے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے غیر سنجیدہ رویے کا جواب وہی خود دے سکتے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت کسی جرگے کے انعقاد کا فیصلہ کر رہی ہے تو وفاق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے حامی ہیں، اور اگر جرگے میں کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے نتائج وفاقی حکومت تک پہنچائے جائیں گے۔














