پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نصاب یکجا کرکے ایم ڈی کیٹ پیپر بنایا ہے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

بدھ 22 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ امتحانات پر ہر سال سوال اٹھتے ہیں۔ پی ایم ڈی سی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نصاب کو یکجا کرکے پیپر بنایا ہے۔ پہلی بار بہترین امتحان ہونے جا رہا ہے۔ اگر کوئی پرچہ آؤٹ ہوا تو صوبہ ذمہ دار ہو گا۔

مزید پڑھیں: ایم ڈی کیٹ 2025 کے لیے کتنے لاکھ امیدوار رجسٹرڈ ہوئے؟

ایم ڈی کیٹ سے متعلق پریس کانفرنس میں وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پی ایم ڈی سی سوالات کا بینک بنا دیا گیا ہے ۔ مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اقدام اٹھایاگیا۔ ہر صوبے کو 3، تین سوالنامے دیے گئے ہیں، صوبے کی مرضی ہے کون سا سوالنامہ دے۔ پیپر کو کنڈکٹ کرنا پی ایم ڈی سی کا کام نہیں۔

مصطفی کمال نے کہا کہ ملک میں 22 ہزار سیٹیں ہیں جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار 2 سو طلبا نے اپلائی کیا ہے۔ صرف 22 ہزار طالب علموں کو داخلے دیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:ایم ڈی کیٹ 2025 کب اور کہاں ہوگا؟ ٹیسٹ لینے والی جامعات اور فیسوں کی تفصیل جاری

ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈی کیٹ کی فیس 9 ہزار روپے ہے۔ ساڑھے 7 ہزار صوبوں کو دیا گیا ہے۔ پی ایم ڈی سی صرف 15 سو چارج کرتا ہے۔ امید ہے کہ صوبے پی ایم ڈی سی امتحانات میں طلبا کو بہترین سہولیات دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘