راولپنڈی کے ایسے جیولرز جو آج بھی اپنے گاہکوں کو سستا سونا دے رہے ہیں

جمعرات 23 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کچھ دن پہلے کی بات ہے، امی کے پاس بیٹھی تھی کہ سونے کی بڑھتی قیمتوں پر بات شروع ہوئی، باتوں باتوں میں امی نے بتایا کہ آج سے کئی دہائیاں پہلے پاکستان میں سونا مہنگا ہونے کے باوجود من مرضی کے زیور بن ہی جاتے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ اتنا مہنگا ہو گیا کہ اب شاید ہی متوسط طبقے کی کوئی خاتون اپنا پسندیدہ زیور آسانی سے خرید سکے۔

امی کی باتوں کے بعد میں نے سونے کی بڑھتی قیمتوں پر تحقیق کی تو پتا چلا کہ پاکستان میں ایک سال میں سونے کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔

اور اس وقت پاکستان میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 44 ہزار روپے اور 10 گرام سونا 3 لاکھ 81 ہزار 430 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

اگر ستمبر 2024 کا موازنہ کیا جائے، تو اس وقت فی تولہ سونا 2 لاکھ 66 ہزار روپے تھا۔ یعنی صرف ایک سال میں قیمت تقریباً دو گنا بڑھ چکی ہے۔

یہ اضافہ اس متوسط طبقے کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے جس کی آمدنی اتنی تیزی سے نہیں بڑھی۔

قیمتوں کا جائزہ لینے کے دوران کسی نے مجھے بتایا کہ سونے کی اتنی زیادہ مہنگائی کے باوجود کچھ جیولرز آج بھی اپنے گاہکوں کو مارکیٹ ریٹ سے کم پر زیورات دینے کے لیے رستے نکال لیتے ہیں۔

یہ جاننے کے لیے میں نے راولپنڈی کے صرافہ بازار کا رخ کیا۔ جہاں ایک جیولر محمد عدنان نے مجھے بتایا کہ سونے کی قیمت بڑھنے کے بعد جیولرز کے لیے بھی مشکلات شروع ہو گئیں ہیں، کیونکہ بازار میں سونے کے خریدار کم ہو گئے ہیں۔

’اس صورتِ حال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے گاہکوں کو کچھ ریلیف دینے کا فیصلہ کیا اور انہیں ہول سیل ریٹ پر سونا فروخت کرنا شروع کر دیا۔ بناوٹ کے چارجز جو جیولرز لیتے ہیں، وہ بھی ختم کر دیے۔ اور اب ہم مارکیٹ ریٹ سے تقریباً 25 فیصد کم قیمت پر سونا فروخت کر رہے ہیں۔‘

’ ہم نے سوچا کہ اگر منافع کم بھی ہو، مگر گاہک واپس آ جائیں تو کاروبار زندہ رہے گا۔ اب جہاں 100 روپے کماتے تھے، 50 بھی مل جائیں تو شکر ہے۔‘

عدنان کے مطابق اگر مارکیٹ میں ایک سادہ انگوٹھی 1 لاکھ 20 ہزار روپے میں فروخت ہو رہی ہے تو وہی ان کے ہاں 90 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

اس پالیسی کے بعد ان کے گاہکوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عدنان کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ریٹ بہتر ہے۔

ایک اور جیولر کے مطابق، راولپنڈی کے صرافہ بازار میں تقریباً 30 فیصد دکاندار اب بناوٹ کے چارجز نہیں لے رہے، تاکہ خریداروں کو کم قیمت پر زیورات مل سکیں اور ان کا کاروبار بھی چلتا رہے۔

’زیادہ نہ سہی منافع کم ہی ہو، مگر ہو تو سہی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟