ایس پی عدیل اکبر کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کردی گئی ہے۔
نماز جنازہ میں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایس پی عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی، آئی جی کی سربراہی میں تحقیقات جاری ہیں : طلال چوہدری
نماز جنازہ کے بعد ایس پی عدیل اکبر کے جسدِ خاکی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ آبائی گاؤں روانہ کردیا گیا۔
اس سے قبل اسلام آباد میں آئی جی اسلام آباد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے، جس نے پولیس فورس سمیت سب کو دکھی کردیا ہے۔ آئی جی اسلام آباد حقائق کا جائزہ لے رہے ہیں اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔
ایس پی عدیل اکبر کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کردی گئی۔
نماز جنازہ میں وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، پولیس، لاء انفورسمنٹ ایجنسیز اور سویلین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
نماز جنازہ کے بعد جسد خاکی کو سرکاری اعزاز میں آبائی گاوں روانہ کردیا گیا۔#WeRIslamabadPolice #ICTP… pic.twitter.com/LjxxlX9I2h
— Islamabad Police (@ICT_Police) October 23, 2025
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ابھی کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس کے سینیئر افسر نے گولی مار کر اپنی جان لے لی
آئی جی اسلام آباد کے مطابق واقعہ گاڑی کے اندر پیش آیا، سیف سٹی کیمرے کی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے، جس میں گاڑی کے باہر کوئی مشکوک سرگرمی نظر نہیں آئی۔ واقعے کے وقت افسر کے گن مین بھی گاڑی میں موجود تھے۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے حکم پر 3 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز، ڈی آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی سیکیورٹی شامل ہیں۔ ٹیم موبائل فون، دیگر شواہد اور جائے وقوعہ سے حاصل مواد کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدیل اکبر کے اہلِخانہ سے رابطہ کیا گیا ہے، ان کے بھائی اور دیگر عزیزوں کو تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ رکھا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پولیس کے سینیئر افسر نے خودکشی کیوں کی؟
وزیر مملکت طلال چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ میڈیا سے درخواست ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، حقائق کی تصدیق کے بعد ہی حتمی موقف دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہمارے لیے ذاتی دکھ کی حیثیت رکھتا ہے، ہم اپنے ساتھی کے اہلِخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو پیش کی جائے گی۔














