پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیئر رہنما سینیٹر رانا ثنااللہ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو عہدے دے ہٹانے اور آفتاب شیرپاؤ کو صوبے کا نیا گورنر تعینات کرنے کی خبروں کی تردید کردی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی گونج، پی ٹی آئی کو اس فیصلے سے فائدہ ہوگا یا نقصان؟
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں حکومت گورنرخیبرپختونخوا کی تبدیلی کے بدلے دی جارہی ہے، گورنر کیوں تبدیل ہورہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس کو آزاد کشمیر میں ہونے والی ڈیویلپمنٹ سے جوڑنا غلط ہے لیکن اگر پیپلز پارٹی چاہے تو آفتاب شیرپاؤ گورنر بن سکتے ہیں اور خیبرپختونخوا میں گورنر تبدیل ہوسکتا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ ویسے تو آفتاب شیرپاؤ گورنز بننے کے لیے مقابلے میں ہیں لیکن اس وقت ایسی کوئی ڈیویلپمنٹ نہیں ہورہی،آفتاب شیرپاؤ سینیئر سیاستدان ہیں اور خیبرپختونخوا کی سیاست میں ان کی اپنی اہمیت بھی ہے تو اگر وہ کسی صورت میں حکومت کا حصہ بنیں تو اس کا فائدہ ضرور ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی میں گورنر راج کا معاملہ زیرغور نہیں، عمران خان میثاق استحکام پاکستان کی طرف آئیں، رانا ثنااللہ
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف نے سمجھا ہے کہ آفتاب شیرپاؤ کسی جگہ معاون ثابت ہوسکتے ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، مسلم لیگ ن سے پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینے کے لیے بات کی ہے، تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں گے۔














