مصنوعی ذہانت تمام نوکریاں ختم کر دے گی، ایلون مسک کا انتباہ

جمعرات 30 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں انسانی محنت کی ضرورت ختم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس جلد تمام نوکریوں کی جگہ لے لیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اسپیس ایکس کے سربراہ نے لکھا کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس تمام نوکریاں ختم کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے ویڈیو کی تخلیق، اوپن اے آئی نے سورا 2 لانچ کردیا

’کام کرنا ایک اختیاری عمل بن جائے گا، بالکل ایسے جیسے آپ دکان سے سبزیاں خریدنے کے بجائے خود اگانے کا انتخاب کریں۔‘

ایلون مسک طویل عرصے سے یہ نظریہ پیش کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف انسانی افرادی قوت کو بدل دے گی بلکہ روزگار کے نظام کی ساخت بھی تبدیل کر دے گی۔

یہ مستقبل اب بہت دور نہیں لگتا، ٹیک سرمایہ کار جیسن کالاکینس نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ ایمیزون اپنے گودام کے کارکنوں کو روبوٹس سے تبدیل کرنے جا رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کے مواقع ختم ہونے کا خوف اب حقیقت بنتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:ایکس اے آئی میں ڈاؤن سائزنگ، 500 سے زیادہ ملازمین نوکری سے فارغ

رواں ہفتے ایمیزون نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی برطرفیوں کا آغاز کیا، جس کے تحت کمپنی نے 30,000 کارپوریٹ ملازمین کو فارغ کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ اقدام لاک ڈاؤن کے دوران ضرورت سے زیادہ بھرتیوں کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اسی طرح، میٹا نے بھی اپنی مصنوعی ذہانت کی یونٹ میں 600 ملازمین کو فارغ کر دیا ہے تاکہ کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر تبصرہ، ’ایکس‘ نے اے آئی چیٹ بوٹ کو معطل کردیا

فیس بک کی ذیلی کمپنی نے اپنے مینلو پارک ہیڈکوارٹرز سے بھی 300 سے زائد ملازمین کو برطرف کیا۔

میٹا کے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ کے مطابق،جب ٹیم کا حجم کم ہوگا تو فیصلے کرنے کے لیے کم گفت و شنید کی ضرورت پڑے گی اور ہر شخص کو زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔

آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم چیگ نے بھی مصنوعی ذہانت کے ’نئے حقائق‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے 45 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں:گروک چیٹ بوٹ کو ہٹلر کی تعریف کے حوالے سے گمراہ کیا گیا، ایلون مسک

اسی طرح، سیلز فورس نے بھی 4000 کسٹمر سروس کی آسامیاں ختم کر کے ان کی جگہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کو متعارف کرایا ہے۔

ییل یونیورسٹی کے بجٹ لیب کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارتھا گِمبل کے مطابق، لوگ مصنوعی ذہانت کے روزگار پر ممکنہ اثرات سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ ہر کمپنی کے اعلان کو حد سے زیادہ بڑا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں۔

امریکی فیڈرل ریزرو بینک آف سینٹ لوئس کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، سن 2022 میں بے روزگاری کی بلند شرح اور مصنوعی ذہانت کے درمیان واضح تعلق پایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

’ہم محنت کرتے ہیں تاکہ لوگ آنٹی نہ کہیں‘: نادیہ خان

پنجاب: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا عمل تیز، 32 ہزار 588 افغان ڈی پورٹ

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان