ایران نیوکلیئر مذاکرات کے لیے تیار، میزائل پروگرام پر ’کوئی بات نہیں کرے گا‘

اتوار 2 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم یہ مذاکرات اسی صورت میں ممکن ہوں گے جب ایران کے حقِ یورینیم افزودگی کا احترام کیا جائے۔

عراقچی کے مطابق ایران اپنے پرامن ایٹمی پروگرام پر بات چیت کا خواہاں ہے لیکن ملکی دفاعی نظام اور میزائل پروگرام کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں بنائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال ہوگئیں

انہوں نے واضح کیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے عمل سے دستبردار نہیں ہوگا اور امریکا کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط ناقابلِ قبول ہیں۔ ان کے بقول ایران ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کا خواہاں ہے جو اس کے قومی مفادات کے مطابق ہو۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں اسرائیل–ایران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر جوہری سرگرمیوں سے متعلق دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایران نے اس کے باوجود زور دیا ہے کہ وہ پرامن ایٹمی سرگرمیوں کے لیے پرعزم ہے اور سفارتی راستے سے تمام تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

یوکرین جنگ کے بعد خلا میں عسکری سرگرمیوں پر عالمی خدشات بڑھ گئے

شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈیانا کے ہنی مون کی تلخ یادیں سامنے آگئیں

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘