افغانستان: افیون کے کھیتوں سے ’آئس‘ کی فیکٹریوں تک، منشیات کی دنیا میں نیا رخ

جمعرات 6 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

ایک ایسے وقت میں جب خطہ افغانستان سے پھوٹنے والی دہشتگردی سے دوچار ہے، دنیا بھر کی نسل نو کا مستقبل افغان عبوری حکومت کی ناک کے نیچے کاشت کی جانے والی افیون سے کی زد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا بھر میں پائی جانے والی افیون کا کتنا فیصد افغانستان میں اگ رہا ہے؟

افغانستان کا شمار دنیا میں افیون کاشت کرنے والے دو بڑے ممالک میں ہوتا ہے، مگر اپنے اپنے علاقوں پر قابض طالبان کمانڈر شاید فقط افیون کی پیداوار سے مطمئن نہیں اس لیے وہ ’آئس‘ جیسا شدید جان لیوا مصنوعی نشہ بھی تیار کر رہے ہیں۔

عالمی سطح پر منشیات کی معیشت کا نیا نقشہ

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (UNODC) کی تازہ رپورٹ ’افغانستان اوپیئم سروے 2025‘ کے مطابق افغانستان اگرچہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پوست کی کاشت میں کمی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، تاہم وہ اب بھی عالمی افیون کی پیداوار کا ایک بڑا اور مرکزی مرکز قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان، میانمار اور میکسیکو اب بھی دنیا کے 3 بڑے ممالک ہیں جہاں افیون کی کاشت عالمی سطح پر خطرے کی حد کے قریب ہے۔

افغانستان میں کاشت میں کمی مگر مرکزیت برقرار

رپورٹ کے مطابق 2025 میں افغانستان میں افیون کی کاشت 10,200 ہیکٹرز پر ریکارڈ کی گئی جو پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے۔ 2023 میں یہ رقبہ 10,800 ہیکٹر اور 2024 میں 12,800 ہیکٹر تھا۔

رپورٹ کے مطابق زابل، کنڑ اور تخار جیسے صوبوں میں کاشت میں اضافہ نوٹ کیا گیا۔ خشک سالی کے باعث ملک کے کئی حصوں میں فصلیں تباہ ہوئیں اور ممکنہ پیداوار صرف 296 ٹن تک محدود رہی۔

عالمی سطح پر افیون پیداوار کی تقسیم

اقوام متحدہ کی عالمی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں افیون کی مجموعی پیداوار 2,140 ٹن رہی۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ میانمار کا تھا جو 46 فیصد یعنی 995 ٹن ہے۔

افغانستان دوسرے نمبر پر 433 ٹن (20.2%) کے ساتھ رہا، جبکہ میکسیکو میں 165.5 ٹن، لاؤس میں 60 ٹن، اور کولمبیا میں 18 ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی۔

دیہی معیشت اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افیون کی فی کلو قیمت 570 امریکی ڈالر رہی۔ اگرچہ مجموعی پیداوار میں کمی آئی، تاہم دیہی معیشت پر اس کی منفی اثرات نمایاں رہے۔ کسانوں کی آمدن میں تقریباً نصف کمی واقع ہوئی، اور فصلوں کے نقصان کے باعث متعدد علاقوں میں زمین بنجر پڑ گئی۔

مصنوعی منشیات کی بڑھتی لہر

UNODC کی رپورٹ میں ایک نیا تشویش ناک رجحان بھی سامنے آیا ہے، افغانستان میں قدرتی افیون کی جگہ مصنوعی منشیات (Synthetic Drugs)، خاص طور پر میتھ ایمفیٹامین (آئس) کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجرمانہ گروہ اب آئس کی تیاری کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ یہ زیادہ منافع بخش اور نقل و حمل میں آسان ہے۔

خطے میں بھارت کا کردار اور منشیات کی سپلائی چین

ماہرین کے مطابق افغانستان میں آئس کی بڑھتی ہوئی پیداوار کا تعلق بھارت سے ہے، جو اس کے لیے ایفیڈرین (Ephedrine) فراہم کرتا ہے، یہ وہ بنیادی کیمیکل ہے جو میتھ ایمفیٹامین کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان کی پابندی کے باوجود افغانستان میں پوست کی کاشت میں کئی گنا اضافہ

رپورٹ کے مطابق اس رجحان نے خطے میں منشیات کی نئی سپلائی چین قائم کر دی ہے، جس کے اثرات وسط ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ تک پھیل سکتے ہیں۔

خشک سالی، معاشی دباؤ اور مستقبل کا خطرہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خشک سالی، پانی کی کمی اور جاری معاشی بحران نے افیون کی کاشت کو مزید محدود کر دیا ہے۔ تاہم دیہی معیشت کی تباہی اور روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری نے بروقت متبادل ذرائع فراہم نہ کیے تو کسان دوبارہ منشیات کی کاشت کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ واضح کرتی ہے کہ افغانستان اب بھی عالمی منشیات کے نقشے پر ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ مصنوعی منشیات کی تیزی سے بڑھتی پیداوار، موسمیاتی بحران اور غیر مستحکم معیشت افغانستان کے لیے نئے چیلنجز لے کر آئی ہے، جو خطے کی سلامتی، تجارت اور معاشرتی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟