خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال میں پاکستان کے آخری سرحدی گاؤں بروغیل سے سڑک کی تعمیر کے مطالبے کے لیے ایک بڑے غیر سیاسی لانگ مارچ کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو 200 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرکے ضلعی ہیڈکوارٹر بونی پہنچے گا، جہاں خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف دھرنا دیا جائے گا۔
واخان کوریڈور سے متصل علاقے بروغیل کے مکینوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بارہا وعدوں کے باوجود مستوج تا بروغیل سڑک کی تعمیر کا منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا، جس کے خلاف عوام نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے۔
مستوج بروغل روڈ جلسہ۔۔۔ ایک امید!
بروغل سے شروع ہوکے بونی کی طرف گامزن یہ قافلہ صرف اچھے سڑکوں کی پکار نہیں ہے بلکہ سالوں سے سیاسی سرگرمیوں سے لاتعلق خطے کیلئے ایک امید بھی ہے۔ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ سڑک جیسے بنیادی حق کیلئے عوام کو ہفتوں تک کام کاج چھوڑ کے سڑکوں پہ.. pic.twitter.com/QiJIkU5xZG
— Khan_Wahid (@Gadayi_guman) July 21, 2026
مظاہرین کے مطابق لانگ مارچ میں شریک افراد 200 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کرتے ہوئے ضلعی ہیڈکوارٹر بونی پہنچیں گے، جہاں مطالبات کی منظوری تک دھرنا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:50 سال سے متروک ٹریکنگ روٹ کے احیا کے لیے چترال سے گلگت کا پیدل سفر
مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت گاڑیوں کے قافلوں کی صورت میں مارچ میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ راستے میں مختلف مقامات پر شرکا کا استقبال بھی کیا جا رہا ہے۔
مقامی رہائشی محمد وزیر روڈ تحریک کے صدر ہیں اور لانگ مارچ کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس حوالے سے پہلے گاؤں گاؤں جا کر لوگوں سے رائے لی گئی کہ آیا وہ سڑک کے لیے احتجاج کریں گے یا نہیں۔
اس کے بعد سب لوگ غیر سیاسی بنیادوں پر ایک نکاتی ایجنڈے، یعنی سڑک کی تعمیر، پر متفق ہو گئے اور پھر باقاعدہ لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ لانگ مارچ کا آغاز بروغیل کے آخری مقام سے کیا گیا، جہاں آج بھی بعض علاقوں تک پہنچنے کے لیے گھوڑوں اور گدھوں پر سوار ہو کر جانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ مکمل طور پر غیر سیاسی تحریک ہے جس کا مقصد صرف اور صرف مستوج تا بروغیل سڑک کی تعمیر کو یقینی بنانا ہے۔‘
ان کے مطابق سڑک کی خستہ حالی نے علاقے کے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور آئے روز حادثات کے باعث قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔
محمد وزیر نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کے دورِ حکومت میں ان کا ایک وفد، ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی سربراہی میں، ان سے ملا تھا۔
حکومتی بے حسی پر بونی ہیڈکوارٹر میں عوام کا عزم اور مضبوط!
4 دن کے لانگ مارچ اور بے شمار خطرات کا مقابلہ کرنے والے اپر چترال کے عوام اب حکومت کے ٹال مٹول کے رویے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔#ChitralLongMarch #ChitralProtest #MastujBrogholroad pic.twitter.com/zzZEMDngxQ— Mukhtar Hussain (@Mr__804) July 22, 2026
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کے فنڈز سے سڑک تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور پہلے مرحلے میں 20 کلومیٹر سڑک کو بجٹ میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس سال 20 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کا وعدہ پورا نہ ہو سکا، تاہم اسی منصوبے کے سروے اور ڈیزائن کے لیے فنڈز مختص کیے گئے اور کہا گیا کہ فزیبلٹی اور سروے کی تکمیل کے بعد منصوبے کو باقاعدہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔
لیکن اس کے بعد اس منصوبے پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے باعث عوام لانگ مارچ شروع کرنے پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری تاریخ میں پہلی بار ہے کہ سڑک کی تعمیر کے لیے لانگ مارچ کیا جا رہا ہے اور اس میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔‘
لانگ مارچ کے قائدین کا کہنا ہے کہ مستوج تا بروغیل 157 کلومیٹر طویل سڑک نہ صرف مقامی آبادی کی بنیادی ضرورت ہے بلکہ یہ وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے پاکستان کا مختصر اور اہم ترین زمینی راستہ بھی بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:شندور پولو فیسٹیول کا تاج گلگت بلتستان کے نام، سنسنی خیز مقابلے میں چترال کو 13 سال بعد شکست
ان کے مطابق افغانستان نے واخان کوریڈور تک اپنی جانب سڑک کی تعمیر مکمل کر کے رسائی کو آسان بنا دیا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
روڈ تحریک کے صدر محمد وزیر نے کہا کہ حکومت کی مسلسل بے توجہی کے بعد عوام کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔انہوں نے کہا کہ ’ہمیں صرف سڑک چاہیے، یہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کم از کم 20 کلومیٹر سڑک کی تعمیر سے متعلق اپنا وعدہ پورا کرے اور اس منصوبے پر فوری عملی کام شروع کیا جائے۔لانگ مارچ کے آغاز کے بعد ضلعی انتظامیہ بھی متحرک ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا بی بی، جن کا تعلق اسی حلقے سے ہے، نے مارچ کو مؤخر کرانے کی کوشش کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال بھی مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پہنچے، تاہم مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ساؤتھ ایئر کا ڈی آئی خان اور چترال کے لیے پروازیں شروع کرنے کا اعلان
مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے دور افتادہ سرحدی علاقوں کو مسلسل نظر انداز کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے بنیادی حق کے حصول کے لیے خود میدان میں نکلیں۔ ان کے مطابق اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
لانگ مارچ میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ بروغیل جیسے دور افتادہ علاقے کے عوام کو ترقی، صحت، تعلیم اور مواصلات کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، جبکہ ایک معیاری سڑک کی تعمیر نہ صرف مقامی آبادی کی مشکلات کم کرے گی بلکہ سیاحت، تجارت اور سرحدی رابطوں کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔












