حکومت کا بجلی کی کھپت بڑھانے کے لیے 22.98 روپے فی یونٹ کا نیا پیکیج تجویز

جمعہ 7 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے انکریمنٹل کنزمپشن پیکیج کی منظوری دینے والی ہے۔

اس ضمن میں نیپرا 11 نومبر 2025 کو عوامی سماعت کرے گی، جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر غور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے کے الیکٹرک پر کروڑوں روپے جرمانہ کیوں عائد کیا؟

یہ پیکیج بجلی کی طلب میں اضافے، نظام کے بہتر استعمال اور غیر فعال پیداواری صلاحیت سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

وزارت توانائی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق، گزشتہ 3 برسوں میں پاکستان کے صنعتی شعبے میں بجلی کی کھپت 14 فیصد جبکہ زرعی شعبے میں 47 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

اس کمی کی وجوہات میں معاشی سست روی، ساختی تبدیلیاں اور متبادل توانائی ذرائع کا بڑھتا استعمال شامل ہیں، جن میں نیٹ میٹرنگ کی استعداد 6,035 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔

نئے پیکیج کے تحت ٹائم آف یوز اور نان ٹائم آف یوز دونوں کیٹیگریز کے صارفین کے لیے فی یونٹ ریٹ 22.98 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

مزید پڑھیں: نیپرا کے فیصلوں سے اصلاحاتی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، وزارت توانائی نے تحفظات کا اظہار کردیا

یہ شرح ان صارفین پر لاگو ہوگی جو ایکس ڈبلیو ڈسکوز اور کے الیکٹرک سے منسلک ہیں، اور ان کی انکریمنٹل یعنی اضافی بجلی کی کھپت، یعنی دسمبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان طے شدہ بنیادی سطح سے زیادہ استعمال، پر لاگو ہوگی۔

یہ اسکیم منظوری کے بعد 3 سال تک نافذ العمل رہے گی، یہ منصوبہ ’سبسڈی نیوٹرل‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی اس سے وفاقی بجٹ پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

تاہم اس میں مثبت فیول کوسٹ ایڈجسٹمنٹ شامل ہوں گے، جبکہ کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، ڈیٹ سروس سرچارج اور منفی ایف سی اے لاگو نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں:نیپرا نے بجلی کی قیمت مزید کم کردی، سرمائی پیکج کا بھی اعلان

اگر کھپت 25 فیصد سے زائد بڑھی تو منصوبے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

تمام کیپٹیو پاور پلانٹس کو نئے صارفین کے طور پر شمار کیا جائے گا، جبکہ نیٹ میٹرنگ والے صارفین کو اسی صورت اہل سمجھا جائے گا جب ان کے بجلی درآمدی یونٹس میں متعلقہ ماہ کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا جائے۔

پاور ڈویژن کے مطابق، ماضی کے پروگرامز جیسے انڈسٹریل سپورٹ پیکیج 23-2020 اور بجلی سہولت پیکیج 25-2024 سے صنعتی بجلی کھپت میں 14 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے 53 ارب روپے سے زائد ریلیف کا امکان

نئے پیکیج کی مالی کارکردگی کا جائزہ ہر 6 ماہ بعد لیا جائے گا، اور اگر مسلسل 2 جائزوں میں ٹیرف میں اضافہ درکار ہوا تو یہ اسکیم خودبخود ختم ہو جائے گی۔

نیپرا نے اسٹیک ہولڈرز کو عوامی سماعت میں شرکت یا اپنی تجاویز آن لائن جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ یہ پیکیج بجلی کے گرڈ آپریشن کو مستحکم کرے گا اور صنعتی و زرعی شعبوں کے لیے بجلی کی لاگت میں کمی کا باعث بنے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟