چیف خطیب خیبرپختونخوا مولانا طیب قریشی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیان کو غیر محتاط اور خلافِ توقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، لہٰذا قیادت کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔
مولانا طیب قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ ملک اور خصوصاً خیبرپختونخوا کے لیے فوج نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ جب آئے دن مساجد میں دھماکے ہوتے تھے، تب یہی فوج صفِ اول میں کھڑی تھی۔
یہ بھی پڑھیے متنازع بیان، وزیر داخلہ نے سہیل آفریدی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں فوج کی لازوال قربانیاں ہیں، ایسے بیانات سے قربانیاں دینے والے جوانوں اور ان کے اہلِ خانہ کی دل آزاری ہوتی ہے۔
’شہداء کے اہلِ خانہ ایسے معاملات پر بہت حساس ہوتے ہیں، ہمیں ان کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔‘
مولانا طیب قریشی نے مزید کہا کہ ہم اپنی فوج کی قربانیوں پر فخر کرتے ہیں۔ آپریشن بنیانِ مرصوص ابھی تازہ ہے، کوئی نہیں بھولا کہ فوج نے اس آپریشن میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان ملک و فوج کے وقار کے خلاف ہے، طاہر اشرفی
انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ لیکن مذہب اور مساجد سے متعلق معاملات میں سب کو محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ مساجد کا ذکر یا ان سے متعلق امور کو سیاست میں لانا نامناسب اور غیر ضروری ہے۔
آخر میں چیف خطیب نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت استحکام اور اتحاد کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے بیانات کی جو انتشار یا غلط فہمی کو جنم دیں۔














