طالبان حکومت نے افغانستان کو ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی کانفرنس ‘سی او پی 30’ (کوپ30) میں شرکت کی دعوت نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
برازیل میں پیر سے شروع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی 30ویں ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس میں درجنوں ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے تاہم افغانستان کو دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ پنجاب ’کوپ کانفرنس‘ میں اسموگ پر بھارت سے آلودگی کا معاملہ اٹھائیں گی
افغانستان کی قومی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (نیپا) نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ اگرچہ افغانستان دنیا کے سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے اس کانفرنس میں باضابطہ دعوت نہیں دی گئی۔
گزشتہ سال طالبان حکومت نے، جو اس وقت صرف روس کی جانب سے تسلیم شدہ ہے، سی او پی 29 میں شرکت کی تھی، تاہم وہ آذربائیجان کی میزبانی میں بطور ‘مہمان’ شریک ہوئے تھے، مذاکراتی فریق کے طور پر نہیں۔
طالبان حکام کا کہنا ہے کہ ان کی سفارتی تنہائی انہیں عالمی ماحولیاتی مذاکرات میں شرکت سے نہیں روکنی چاہیے۔ نیپا کے بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان عوام کو اس کانفرنس میں شرکت کے حق سے محروم کرنا موسمی انصاف، عالمی تعاون اور انسانی یکجہتی کے اصولوں کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کوپ 30 اجلاس میں شرکت کے لیے برازیل روانہ
سائنس دانوں کے مطابق افغانستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں صرف 0.06 فیصد حصہ رکھتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان کی تقریباً 89 فیصد آبادی اپنی بقا کے لیے زراعت پر انحصار کرتی ہے۔












